جی این این سوشل

پاکستان

مارشل لاء کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے، فوجی قیادت جمہورت پر یقین رکھتی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فو ج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کسی افسر نے استعفیٰ نہیں دیا، فوج آرمی چیف کی قیادت میں متحد ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

مارشل لاء کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے، فوجی قیادت جمہورت پر یقین رکھتی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اندرونی شرپسندوں اور بیرونی دشمنوں کی پوری کوشش کے باوجود بھی فوج جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں متحد تھی، متحد ہے اور متحد رہے گی، اس کو تقسیم کرنے کا خواب، خواب ہی رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ کسی نے استعفیٰ دیا ہے نہ ہی حکم عدولی کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھاکہ جنرل عاصم منیر اور سینیئر فوجی قیادت دل و جان سے جمہوریت کو سپورٹ کرتی ہے اور کرتی رہے گی، مارشل لا کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ آرمی چیف اور ان کے ساتھ پوری عسکری قیادت جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔

پاکستان

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں۔ 

پیکا ایکٹ کے ملزمان کا تحت ٹرائل کے معاملے پر بڑی پیشرفت اُس وقت سامنے آئی جب وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلئے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دیدی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی روف حسن اور دیگر کا ٹرائل پیکا ایکٹ کے نئی قائم عدالتوں میں ہونے کا امکان ہے۔

عدالتوں کی تشکیل کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دے دیا گیا ہے، دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز نامزد ہوں گے۔دوسری جانب وزارت قانون نے وضاحت کی ہے کہ جسٹس بابر ستار کے حکم کی روشنی میں پیکا ایکٹ ملزمان کے ٹرائل کیلئے عدالتیں تشکیل دی گئیں ہیں، جسٹس بابر ستار نے 6 جون 2024 کو وفاقی حکومت سے پیکا ایکٹ کے تحت عدالتوں کے عدم قیام پر جواب مانگا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دیا گیا، دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز نامزد ہوں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو پاکستان یونین آف جرنلسٹس کی ممبرشپ دینےکا فیصلہ

یونین کی فیڈرل ایگزیکٹوکونسل کے 19 سے 21 جولائی 2024 کو گوجرانوالہ میں ہونے والے اجلاس میں کیاگیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو پاکستان یونین آف جرنلسٹس کی ممبرشپ دینےکا فیصلہ

پی ایف یوجے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل نے ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو پاکستان یونین آف جرنلسٹس کی ممبرشپ دینے کا اصولی فیصلہ کیاہے ۔

یہ فیصلہ  یونین کی فیڈرل ایگزیکٹوکونسل کے 19 سے 21 جولائی 2024 کو گوجرانوالہ میں ہونے والے اجلاس میں کیاگیا ۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے آئین میں درکار ضروری ترامیم کی جائیں گی ۔

فیڈرل یونین ڈیجیٹل میڈیا جرنلسٹوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لئے ایک فارم جاری کرے گی ۔ یہ ڈیٹا تمام ملحقہ یونینز اکٹھا کریں گی ۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیاگیاہے کہ ہتک عزت قانون میں پائی جانے والی خامیوں کو دورکرنے کے لئے ایک قانونی مسودہ تیارکیاجائے گا ۔ یہ مسودہ ایک تین رکنی کمیٹی تیار کرے گی اوریہ قانونی مسودہ حکومت کو پیش کیاجائے گا ۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی کے جلسے کا اجازت نامہ واپس لینے کا چیف کمشنر کا حکم کالعدم قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 5 جولائی کا چیف کمشنر کا این او سی واپس لینے کا حکم کالعدم قرار دے دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی کے جلسے کا اجازت نامہ واپس لینے کا چیف کمشنر کا حکم کالعدم قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے جلسے کا اجازت نامہ واپس لینے کا چیف کمشنر کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

فیصلہ ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست پر سماعتوں کے بعد سنایا ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے پانچ صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا جس میں عدالت نے 5 جولائی کا چیف کمشنر کا این او سی واپس لینے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی جلسہ کے این او سی کی درخواست اسلام آباد انتظامیہ کے سامنے زیر التوا تصور ہوگی، اسلام آباد انتظامیہ قانون کے مطابق اور وجوہات کے ساتھ درخواست پر فیصلہ کرے.

5 جولائی کے آرڈر کے مطابق محرم میں لا اینڈ آرڈر صورت کی وجہ سے این او سی واپس لیا گیا، این او سی واپس لینے سے پہلے چیف کمشنر نے پی ٹی آئی کے کسی نمائندے کو آگاہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے چیف کمشنر کے آرڈر کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر رکھی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll