کسی بھی حادثے میں جاں بحق ہونے والے صحافی کے لواحقین کو 40 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے،شہباز شریف


وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران زندگی کی بازی ہارنے والے صحافیوں کے لئے خصوصی فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ایسے کسی حادثے میں جاں بحق ہونے والے صحافی کے لواحقین کو 40 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے جبکہ وزیراعظم نے صحافیوں کے لئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہیلتھ کارڈ کابھی اجرا کردیا ہے۔
صحافیوں اور فنکاروں کے لئے ہیلتھ انشورنس کارڈ،پاکستان کوڈ، ڈیجیٹل ریپازٹری آف فیڈرل لازموبائل ایپ اور ویب سائٹ کے اجراکی تقریب سے خطاب کرتےہوئے وزیراعظم نے کہاکہ امراض زندگی کا حصہ ہیں، ہیلتھ کارڈ کے اجرا پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس کے لئے مریم اورنگزیب ، سیکرٹری اطلاعات اور ان کی ٹیم کاخصوصی شکریہ ادا کرتےہیں۔ انہوں نے ایک بڑی ذمہ داری ادا کی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ یہ صحافت کے میدان میں ایک انقلابی قدم ہے۔ ورکنگ جرنلسٹ اپنے فرائض کی ادائیگی بہت سے چیلنجز اور خطرات کاسامنا کرتے ہیں۔ پاکستان کو ڈیجیٹل ریپازٹری آف فیڈرل لاز ، موبائل ایپ اور ویب سائٹ کے اجرا سے اب قوم اور پوری دنیا کو قوانین تک رسائی حاصل ہو گی۔ تمام قوانین اور آئینی دفعات سے فوری طور پر مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے مشاورت سے فیصلہ کیا ہے کہ وہ صحافی جو فرائض کی ادائیگی کے دوران زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو ان کے لئے خصوصی فنڈ کاقیام عمل میں لایا جارہاہے ۔ایسے حادثے کا شکار ہونے والے صحافی کے اہل خانہ کو 40 لاکھ روپے کی رقم کی وزیراعظم فنڈ سے ادائیگی ہو گی ، گو کہ یہ رقم آج کے حالات میں کوئی زیادہ نہیں تاہم یہ شروعات ہے۔ جب پاکستان کو مزید وسائل دستیاب ہوں گے تو اس میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ میں وزیراعلیٰ پنجاب تھا اس وقت جو پولیس اہلکار یاآفیسر اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرتے تھے ان کو پہلے 30 لاکھ روپے دیئے جاتے تھے اور پھر اسے بعدازاں بڑھا کر 5 کروڑ روپے تک بڑھایا ۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خوشحال ہوگا تو صحافیوں کے لئے بھی اس فنڈ میں اضافہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی میں بڑی محنت سے کام کرتےہیں۔ بطور وزیراعظم مجھے 16ماہ ہو چکےہیں ۔ اس دوران مختلف کالم نگاروں نے تنقید بھی کی ہو گی تاہم میں نے آج تک اس کا برا نہیں منایا۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے، تنقید حقائق پر مبنی ہونی چاہیے ، اس سے رہنمائی اور مدد ملتی ہے اور اگر یہ تنقید حقائق کے برخلاف ہو تو اس سےبگاڑ پیداہوتاہے

پاکستان نے اگلے سال کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی
- 3 دن قبل
پنجاب اسمبلی میں 16سال سے کم عمربچوں کے سوشل میڈیا استعمال پرپابندی کی قرارداد منظور
- 3 دن قبل

مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا، حاقان فیدان
- 4 دن قبل

ملیک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر ہزاروں روپے کا اضافہ
- 3 گھنٹے قبل
راولپنڈی، اسلام آباد میں طوفانی بارش، نالہ لئی بپھر گیا، فوج طلب، تعلیمی اداروں میں تعطیل
- 3 دن قبل
بلوچستان میں متعدد کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندستان اور فتنہ الخوارج کے 21 دہشت گرد ہلاک
- 3 دن قبل
نیپال میں سیلاب کی تباہ کاریاں: ٹنل سے 9 روز بعد 2 افرادکو زندہ نکال لیا گیا
- 4 گھنٹے قبل

اسٹیج اداکار محمد صدیق المعروف عابد چارلی شدید علیل
- 4 دن قبل

پاکستان نے نارووال میں ہندو مندر بارے بھارتی وزارت خارجہ کے بے بنیاد، سیاسی مقاصد پر مبنی دعووں کو مسترد کر دیا
- 4 گھنٹے قبل

وزیراعظم کی بشکیک میں عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال
- 3 دن قبل

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون نئے مرحلے میں داخل ہو گیا: طاہر اشرفی
- 42 منٹ قبل
آئمہ بیگ کا انسٹا گرام اسٹیٹس اچانک نظروں میں آگیا،علیحدگی کی افواہیں
- 3 گھنٹے قبل




