نئی دہلی : بھارت میں کوورونامریضوں میں ایک اور جان لیوا پیچیدگی کا انکشاف ہوا ہے ، طبی ماہرین کی جانب سے ایک فنگل انفیکشن کے حوالے سے انتباہ جاری کیا گیا ہے جسے کوویڈ 19 کے کچھ مریضوں میں دریافت کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ فنگل انفیکشن بھارت میں کووڈ کے مریضوں کے لیے نئی پیچیدگی کی صورت میں ابھرا ہے۔ طبی حکام کا کہنا ہے کہ یہ انفیکشن کی شکل کو بگاڑنے کے ساتھ مریض کی موت کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کی جانب سے 9 مئی کو ایک بیان میں بتایا گیا کہ میوکورمائیکوسس (Mucormycosis) نامی اس بیماری کو بلیگ فنگس انفیکشن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو نتھنوں یا پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ آئی سی ایم آر کچھ وقت سے ادویات کا استعمال کرنے والے یا آئی سی یو میں زیادہ وقت گزارنے والے مریضوں میں اس انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہے۔
بھارت میں آکسیجن کی کمی سے کورونا کے مریضوں کو جہاں مشکلات کا سامنا ہے وہیں یہ نیا انفیکشن بھی اسی آکسیجن کی پائپس میں آلودگی کا نتیجہ ہے ۔ ماہرین کے مطابق یہ انفیکشن درحقیقت ذیابیطس سے منسلک ہوتا ہے کیونکہ یہ فنگس سانس کی نالی کے ذریعے حملہ کرتی ہے ۔ آئی سی ایم آر کے مطابق اس کی علامات میں آنکھوں اور ناک کے ارگرد تکلیف اور سرخی، سانس لینے میں مشکلات، خون کی الٹی اور ذہنی حالت میں تبدیلیاں قابل ذکر ہیں ۔کچھ کیسز میں ڈاکٹرز کاکہنا ہے کہ کورونا کے مریضوں کو اس انفیکشن کی سنگینی سے بچانے کیلئے بینائی سے محرومی کے ساتھ جبڑوں کو بھی نکالنا پڑا ہے۔ ایک اینٹی فنگل انجیکشن جس کی ایک خوراک 3500 روپے (ڈالر 48) ہے اور اس کو آٹھ ہفتوں تک ہرروز لگانا پڑتا ہے اور یہ اس بیماری کے خلاف واحدموثر دوا ہے۔
اس حوالے سے ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ متاثرہ مریض کے بلڈ گلوکو کی سطح کو مانیٹر کریں، آکسیجن تھراپی کے لیے ہومیفائڈر میں صاف اور خالص پانی استعمال کریں۔ آئی سی ایم آر نے خبردار کیا ہے کہ اسٹرائیڈز جیسے ڈیکسامیتھاسون کا حد سے زیادہ استعمال اس انفیکشن کے بدترین ہونے کا باعث بن سکتا ہے جس کا استعمال کووڈ کے سنگین کیسز میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ ذیابیطس کے مریضوں کی بہت زیادہ تعداد ہے جن میں ذیابیطس کو کنٹرول نہیں کیا جارہا ہے ۔
بھارت میں اس فنگس کے کیسز کا باقاعدہ ڈیٹا تو جاری نہیں ہوا مگر میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست مہاراشٹرا اور گجرات میں اس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔آئی سی ایم آر کی سائنسدان اپرنا مکھرجی نے بتایا کہ اس حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، مگر اس حوالے سے خبردار ضرور رہنا چاہیے۔واضح رہے کہ بھارت میں ایک دن میں کورونا کے مزید دو لاکھ ا78 ہزار نئے مریض سامنے آگئے جبکہ مزید تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ بھارت میں مرنے والوں کی آخری رسومات کے لیے جگہ کم پڑنے لگی، اسپتالوں میں آکسیجن اور دواؤں کی قلت برقرارہے۔

ایران جنگ:وزیراعظم کے ملائیشیا اور انڈویشیا کے سربراہان سے رابطے،علاقائی وعالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
- 4 hours ago

بانی پی ٹی آئی کوکو علاج کیلئے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری
- 8 hours ago

دوسرا سیمی فائنل: سنجوسمسن کی جارحانہ بلے بازی،بھارت کا انگلینڈ کو 254 رنز کا بڑا ہدف
- 4 hours ago

بیتھل کی اسنچری رائیگاں، انگلینڈ کو سننسی خیز مقابلے کے بعد7 رنز سے شکست، بھارت میں فائنل میں پہنچ گیا
- 22 minutes ago
پنجاب میں جعلی ادویات کی فروخت، ڈرگ کنٹرول بورڈ نے 5 ادویات سے متعلق الرٹ جاری کردیا
- 7 hours ago

دشمن کو انجام تک پہنچائے بغیر جنگ بند نہیں کریں گے،اہداف کے حصول تک لڑائی جاری رہے گی،ایرانی جنرل
- 6 hours ago

عباس عراقچی کا ترک وزیر خارجہ سے رابط،ایران کی ترکیہ پر میزائل حملے کی تردید
- 8 hours ago

سونے کی بڑھتی قیمتوں کو ریورس گئیر لگ گیا، فی تولہ ہزاروں روپے سستا
- 8 hours ago

وزیر اعلی سہیل آفریدی کی ایرانی قونصل خانہ آمد، سپریم لیڈر کے انتقال پر اظہار تعزیت
- 3 hours ago
.webp&w=3840&q=75)
اے آئی کی گورننس ،اخلاقی استعمال اور عوامی شعبے کی رہنمائی کیلئے پالیسی پر کام کیا جا رہا ہے ،شزا فاطمہ
- 3 hours ago

فورسز کی افغان طالبان کے خالف کارروائیاں جاری،قندھار میں 205 کور کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ
- 8 hours ago

زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے ملکی معیشت میں اہم ستون کا درجہ رکھتے ہیں، وزیراعظم
- 2 hours ago








.jpg&w=3840&q=75)

