Advertisement
پاکستان

نیب ترامیم کیس ، سپریم کورٹ نے احتساب عدالتوں کو آئندہ سماعت تک حتمی فیصلے سے روک دیا

عدالت نے نیب ترامیم کیس کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا بھی مسترد کر دی

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Oct 31st 2023, 7:55 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
نیب ترامیم کیس ، سپریم کورٹ نے احتساب عدالتوں کو آئندہ سماعت تک حتمی فیصلے سے روک دیا

نیب ترامیم کیس میں سپریم کورٹ نے احتساب عدالتوں کو آئندہ سماعت تک حتمی فیصلے سے روکتے ہوئے سماعت کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے نیب ترامیم کیس کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔

سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ عدالتیں ٹرائل تو جاری رکھ سکتی ہیں لیکن حتمی فیصلہ نہ دیں۔ سپریم کورٹ نے عدالتی حکم اور اپیلوں کی نقول پی ٹی آئی چیئرمین کو جیل میں فراہم کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔

فیصلے کے مطابق ملزم ٹرائل کورٹ سے ضمانت لینے کا بھی حق دار ہو گا۔

فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ میرے موکل نیب ملزم ہیں، انہیں فریق بنائے بغیر یہ فیصلہ دیا گیا، میں نے دو نظرثانی کی درخواستیں اور ایک اپیل دائر کی تھی۔

حکومتی وکیل مخدوم علی خان کے معاون وکیل سعد ہاشمی نے کہا کہ نیب ترامیم کیس کو 5 رکنی لارجر بینچ کوسننا چاہیے تھا۔  نیب ترامیم کیس پر پریکٹس اینڈ پروسیجرقانون لاگو ہوتا تھا، نیب ترامیم کیس میں بینچ ججز کی کمیٹی نے تشکیل نہیں دیا تھا۔

چیف جسٹس نے معاون وکیل سے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ اس نکتے کی پیروی کرنا چاہتے ہیں؟، اگر یہ دلیل مان لی گئی تو نیب ترامیم کیخلاف درخواستیں زیر التواء تصور ہوں گی، زیر التواء درخواست پر از سر نو پانچ رکنی لارجر بینچ فیصلہ کرے گا۔

معاون وکیل سعد ہاشمی نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون والا نکتہ پہلے بھی اٹھایا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو اس نکتے پر تکنیکی مسئلے کا بھی سامنا ہے، ابھی تک پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا، معلوم نہیں نمٹائے گئے مقدمات کے حوالے سے تفصیلی فیصلے میں کیا لکھا ہوگا، کیا مناسب نہیں ہوگا پہلے تفصیلی فیصلے کا انتظار کر لیا جائے۔

سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد نیب، اسلام آباد اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیا، جب کہ درخواست گزار چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی نوٹس جاری کردیا گیا۔

Advertisement