جی این این سوشل

پاکستان

پیپلزپارٹی آج 56واں یوم تاسیس منارہی ہے

یوم تاسیس کی مرکزی تقریب کوئٹہ میں ایوب اسٹیڈیم میں  ہورہی ہے  جس سے بلاول بھٹو زرداری خطاب کریں گے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پیپلزپارٹی آج 56واں یوم تاسیس منارہی ہے
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پیپلز پارٹی آج اپنا 56 واں یوم تاسیس منا رہی ہے، یوم تاسیس کی مرکزی تقریب کوئٹہ میں ایوب اسٹیڈیم میں  ہورہی ہے  جس سے بلاول بھٹو زرداری خطاب کریں گے۔روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے سے مشہور ہونے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد 1967ء میں آج ہی کے روز لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر رکھی گئی، پیپلز پارٹی کے جیالے آج بھی پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار بھٹو کی ولولہ انگیز تقریروں کے سحر میں مبتلا ہیں، بے نظیر بھٹو شہید کی یادیں بھی دلوں میں زندہ ہیں۔

بلوچستان سمیت ملک کے مختف حصوں سے جیالوں کی آمد جاری ہے اور ملک پاکستان کے مختلف حصوں سے لوگ جوک در جوک تشریف لا رہے ہیں ۔

جیالے جھنڈے اور ذولفقار علی بھٹو کی بڑی بڑی تصویریں اٹھائے جلسہ گاہ کی طرف جا رہے ہیں اور ان کا جذبہ اور ولولہ تعریف کے قابل ہے۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے امیر طبقے کے بجائے عام آدمی کے مسائل پر زور دیا، کسانوں اور مزدوروں کو ان کے حقوق سے متعلق آگاہی دی، یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی عوام کے اندر مقبول جماعت کے طور پر ابھری مگر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی پر مشکل ترین وقت آیا، ضیاءالحق کے مارشل لاء میں جیالوں نے کوڑے کھائے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ضیا دور کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی تو عوام نے ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ہی ویلکم کیا، ملک کو ایٹمی قوت بنانے اور 1973ء کا آئین دینے جیسے عظیم کارناموں کا سہرا پیپلز پارٹی ہی کو جاتا ہے ۔

 ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے بعد عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی اپنے مسائل میں گھر گئی۔

بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد قیادت کا مسئلہ رہا تو کبھی قیادت میں اختیارات کا تنازع یا پھر دیگر سیاسی جماعتوں سے مقابلے کا چیلنج درپیش رہا، چاروں صوبوں کی زنجیر قرار دی جانے والی پیپلز پارٹی ہر دور میں کسی نہ کسی بحران سے گزری، آج تاثر عام ہے کہ پارٹی ایک صوبے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، اب دیکھنا ہے کہ نوجوان قیادت ایک بار پھر عام آدمی کا اعتماد کیسے حاصل کرتی ہے۔

 

پاکستان

جماعت اسلامی نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کر لی

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے تک جماعت اسلامی کا دھرنا جاری رہے گا، ذرائع

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جماعت اسلامی نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کر لی

جماعت اسلامی نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کر لی، جماعت اسلامی کی قیادت پر مشتمل کمیٹی حکومت سے مذاکرات کرے گی۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے جماعت اسلامی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔جس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، طارق فضل چودھری اور امیر مقام شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے تک جماعت اسلامی کا دھرنا جاری رہے گا۔

مری روڈ لیاقت باغ چوک پر جماعت اسلامی کے کارکن دوبارہ جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔مری روڈ کے داخلی راستے کو کنٹنرز لگا کر ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے اور پولیس کی بھاری نفری دھرنے کی سکیورٹی کے لیے موجود ہے۔

سڑک پر ہی شب بسر کرنے والے کارکنوں میں نوجوانوں کے ساتھ بزرگوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے جبکہ میونسپل کی جانب سے صفائی ستھرائی کا کام جاری ہے، مری روڈ کے داخلی راستے کو کنٹنرز لگا کر ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے اور پولیس کی بھاری نفری دھرنے کی سکیورٹی کے لیے موجود ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

جرم

سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، 38 دہشتگرد گرفتار، اسلحہ برآمد

سی ٹی ڈی پنجاب دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے،ترجمان

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، 38 دہشتگرد گرفتار، اسلحہ برآمد

لاہور: کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی)پنجاب نے رواں ماہ میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے آپریشنز کے دوران کالعدم تنظیموں کے38 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔

ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں449خفیہ آپریشنز کئے گئے جن کے دوران449مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اورکالعدم تنظیموںکے 38  دہشت گردوں کو گرفتارکر کے ان کے قبضہ سے اسلحہ دھماکہ خیز و دیگر ممنوعی مواد برآمد کر لیاگیا۔

گرفتار ہونے والے دہشت گردوں میںمحمد فہیم،رامداد،وحید اللہ،سعودالرحمان،محمد طاہررشید،راولپنڈی،سلیمان طارق،شاہداللہ،رحمان گل،رحمان گل،شیرجان،اعجاز الرحمان ،سبحان اللہ،عمرا یاز،عبدالرزاق،عبدالصمد،مظفر نذیر،رقیب شبیر،ڈاکٹر افتخار،محمد زبیر،سکندرعثمان،زبیر نذیر،غلام سرور،محمد عمران ،ذکااللہ ،علی فتح،تاج محمد،شاہ ولی خان،احسان الرحمان جگرانوی،غلام اللہ،عمر حیات،محمد سلیم ،محمد وسیم ،اسد رحمان،محمد شاہدمفتی محمد صابراز،مدثر خان،رضوان احمد اور عاطف رحمان شامل ہیں ۔جن کا تعلق سپاہ صحابہ پاکستان ،لشکر جھنگوی،تحریک طالبان پاکستان اورداعش سے ہے۔

ان مبینہ دہشت گردوں کی گرفتاری نارووال،راولپنڈی،ملتان،سرگودھا، جھنگ،وہاڑی،خانیوال،بہاولپور،بہاولنگر،لاہور،رحیم یارخان،ننکانہ صاحب،لودھراں،پاکپتن،ڈی جی خان،جہلم،گوجرانوالہ،فیصل آباد،بھکر اوراٹک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران عمل میں لائی گئی۔دہشتگردوں کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، آئی ای ڈی بم 01، دھماکہ خیز مواد 7691 گرام،  ہینڈ گرنیڈ 01،  ڈیٹونیٹرز 29،  حفاظتی فیوز تار 50 فٹ،  پرائما کارڈ 2.8 فٹ،  پستول 03 اور 23 گولیاں،  رائفل 01 جس میں 15 گولیاں،  ممنوعہ کتابیں 14،  ممنوعہ میگزین 11، پمفلٹس 266،  اسٹیکرز 234،  جھنڈے 02،  رسید بکس05، موبائل فونز 06 اور 69470روپے نقدی برآمد کئے گئے ہیں۔

ترجمان نے کہاکہ دہشت گردوں نے تخریب کاری کا منصوبہ بنا رکھا تھا اور وہ دہشتگردانہ کاروائی  میں اہم تنصیبات کو ٹارگٹ کرنا چاہتے تھے۔گرفتار مبینہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش کے لیے ان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ رواں ہفتے کے دوران مقامی پولیس اور سیکورٹی اداروں کی مدد سے سی ٹی ڈی پنجاب نے2581کومبنگ آپریشنز کیے گئے ان کومبنگ آپریشنز کے دوران107743افراد کو چیک کیا گیا،412مشتبہ افراد کو گرفتار363ایف آئی آر درج جبکہ461بازیابیاں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ کانٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ پنجاب پوری مستعدی سے محفوظ پنجاب کے اپنے ہدف پر عمل پیرا ہے اوردہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔دہشت گردوں اور ریاست دشمن عناصر کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

پٹرولیم مصنوعات میں مسلسل اضافے کے بعد کمی کا امکان

یکم اگست سے 15 اگست تک کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 سے 8 روپے 50 پیسے فی لیٹر کی کمی کا امکان ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پٹرولیم مصنوعات میں مسلسل اضافے کے بعد کمی کا امکان

 

پٹرولیم مصنوعات میں مسلسل اضافے کے بعد کمی کا امکان ہے۔ یکم اگست سے 15 اگست تک کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 سے 8 روپے 50 پیسے فی لیٹر کی کمی کا امکان ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں نرخوں اور درآمدی پریمیم میں کمی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ 15 دن کے دوران 2 سے 3 ڈالر فی پیرل کمی واقع ہوئی ہے۔

تاہم اس کا انحصار حتمی حتمی حساب کتاب اور موجودہ ٹیکس کی شرح پر ہے۔

حکام کے مطابق گزشتہ 15 روز کے دوران عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی اوسط قیمت 89.50 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 87.50 ڈالر جبکہ ڈیزل تقریباً 93.96 ڈالر سے کم ہو کر 94 ڈالر فی بیرل پر آگیا ہے۔

حکومت نے موجودہ فنانس بل میں پیٹرولیم لیوی کی زیادہ سے زیادہ حد 70 روپے فی لیٹر کر دی ہے تاکہ اگلے مالی سال میں 12 کھرب 80 ارب روپے جمع کیے جا سکیں، اس کے برعکس گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے اس مد میں 960 ارب روپے حاصل کیے، جو 869 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 91 ارب روپے زائد رہے۔

اس وقت پیٹرول کی قیمت 275 روپے 60 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 284 روپے فی لیٹر ہے، نئی قیمتوں کے بعد پیٹرول 272 روپے سے اوپر رہے گا جبکہ ڈیزل 275 روپے فی لیٹر کے قریب رہے گا، بشرطیکہ حکومت پیٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ نہ کرے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll