Advertisement

یرغمالی رہا کر دیئے جائیں تو کل ہی جنگ بند کر دیں گے، اسرائیل

اسرائیل کی جانب سے جنگ روکے جانے تک اسرائیلی قیدیوں کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی، حماس رہنما

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Dec 24th 2023, 6:11 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
یرغمالی رہا کر دیئے جائیں تو  کل ہی جنگ بند کر دیں گے، اسرائیل

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے یرغمالی رہا کر دیئے جاتے ہیں تو کل ہی جنگ بند کر دیں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مشیر کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کل ہو جائے گی لیکن اس شرط پر کہ حماس اپنے زیر حراست قیدیوں کو رہا کر دے۔

دوسری جانب حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ روکے جانے تک اسرائیلی قیدیوں کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔

اسامہ حمدان نے بیروت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگر اسرائیل اپنے یرغمالی افراد کو زندہ واپس چاہتا ہے تو اسے غزہ کی پٹی پر حملہ روکنا ہو گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی حکومت ایک ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں، وہ غزہ کی ریت میں زیادہ سے زیادہ دھنس رہے ہیں۔ ان کی حکومت کا خاتمہ بالکل قریب ہے۔ انہوں نے فلسطینی دھڑوں کو ختم کرنے کی اسرائیلی دھمکیوں کو بھی کھوکھلے دعوے قرار دے دیا۔

دوسری طرف فلسطینی دھڑوں نے بھی اعلان کیا کہ یہ ایک قومی فیصلہ ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے تک قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ حماس کو مختصر جنگ بندی کے بارے میں تحفظات تھے۔ اس نے کم از کم 14دن کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

حماس نے اسرائیلی فوجی مہم کو مزید عارضی طور پر روکنے کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ صرف ایک مستقل جنگ بندی پر بات کی جائے گی۔ یہ ایسی جنگ بندی ہو گی جس میں فلسطینی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے قیام پر زور دیا جائے گا۔ فلسطینی شہریوں کو مناسب خوراک اور طبی امداد پہنچانے کی بات کی جائے گی۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان سات اکتوبر سے جنگ جاری ہے۔ اس دوران 24 تا 30 نومبر سات روز کے لیے عارضی جنگ بندی کی گئی۔ جنگ بندی میں مزید توسیع نہ ہونے پر یکم دسمبر سے اسرائیل نے غزہ پر بمباری دوبارہ شروع کردی تھی۔

Advertisement