Advertisement
پاکستان

سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کے پر حکمِ امتناع ختم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گواہوں کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کروانے کا حکم دے دیا

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 11th 2024, 5:51 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کے پر حکمِ امتناع ختم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف حکمِ امتناع ختم کرتے ہوئے گواہوں کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کروانے کا حکم دے دیا۔

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس کے اِن کیمرہ ٹرائل کے خلاف اپیل پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی۔اٹارنی جنرل منصور اعوان اور عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، سائفر کیس میں ایف آئی اے نے جسٹس ریٹائرڈ حامد علی شاہ کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے ان کیمرہ کارروائی از سر نو کرنے کی یقین دہانی کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف حکمِ امتناع واپس لیتے ہوئے گواہوں کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کروانے کا حکم دیا ہے۔وکیل سلمان اکرم راجہ نے استدعا کی کہ 14 دسمبر کے آرڈر کے بعد کی کارروائی کالعدم قرار دی جائے، انہوں نے تسلیم کر لیا کہ 14 دسمبر کا آرڈر درست نہیں تھا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم کیس سے متعلق تمام آفیشل دستاویزات عدالت کو جمع کریں گے، ٹرائل کورٹ نے کچھ گواہوں کے لیے سماعت ان کیمرہ کرائی تھی، گواہوں کے بیانات کی سرٹیفائیڈ کاپیاں درخواست گزار وکلاء کے پاس موجود ہیں۔ عدالت کے ڈویژن بینچ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کرایا گیا تھا، 14 دسمبر کا ٹرائل کا فیصلہ ٹھیک نہیں تھا تو دوبارہ گواہان کا بیان قلمبند کرتے ہیں، سلمان اکرم راجہ متفق ہے تو درخواست کو نمٹا دیں۔

اس اہم پیش رفت کے بعد عدالت نے سائفر کیس میں ٹرائل روکنے کا حکم واپس لیتے ہوئے گواہوں کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کروانے کا حکم دیا ہے۔

Advertisement
Advertisement