Advertisement
تفریح

اردو شاعر ابن انشاء کی 46ویں برسی

11 جنوری 1978 کو انتقال کر گئے اور کراچی میں سپرد خاک ہوئے

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 11th 2024, 5:42 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اردو شاعر ابن انشاء کی 46ویں برسی

کراچی: آج اردو کے ممتاز شاعر، مزاح نگار اور سفرنامہ نگار ابن انشاء کی 46ویں برسی ہے۔

وہ 1927 میں بھارتی پنجاب کے ضلع جالندھر میں شیر محمد خان کے نام سے پیدا ہوئے اور بعد میں پاکستان ہجرت کر گئے۔ ان کی خدمات کو 1978 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

شیر محمد سادہ لیکن گہری شاعری کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان کی مقبولیت ان کے مزاحیہ اشعار اور کالموں کی وجہ سے بڑھی۔ انشا کے شاہکار، جن کی قدر مداحوں نے کی ہے، ان میں لازوال غزل 'انشا جی اٹھو' شامل ہے، جو ان کی حیثیت کو جدید دور کے کلاسک کے طور پر مستحکم کرتی ہے۔ نہ صرف اپنی شاعری کے لیے مشہور بلکہ اردو کے بہترین مزاح نگاروں میں سے ایک کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

ابن انشاء نے دل وہشی اور چاند نگر جیسے شاعرانہ جواہرات کے ساتھ انمٹ نقوش چھوڑے۔ ان کے بصیرت افروز سفرناموں میں چلتے ہو تو چنوں کو چلی، نگری نگری پھرا مسافر، آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے اور ابنِ بطوطہ کے تبوک میں شامل ہیں۔

ان کے مزاحیہ کاموں میں سے ابن انشا نے خمار غنڈم اور اردو کی آخری کتاب کے ساتھ ہنسی تیار کی۔ ان کی خط و کتابت کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے خطوط کے مجموعے کا عنوان ’خت انشا جی کے‘ ہے۔

وہ 11 جنوری 1978 کو انتقال کر گئے اور کراچی میں سپرد خاک ہوئے۔

Advertisement
Advertisement