Advertisement
پاکستان

کتنے پاکستانی کرپٹو اکاؤنٹس کے مالک بن گئے؟ بلال بن ثاقب نے بتا دیا

چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کی تیسری بڑی کرپٹو مارکیٹ بن چکا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 ماہ قبل پر اگست 31 2026، 4:19 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
کتنے پاکستانی کرپٹو اکاؤنٹس کے مالک بن گئے؟ بلال بن ثاقب نے بتا دیا

چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ تقریباً 4 کروڑ پاکستانیوں کے کرپٹو اکاؤنٹس ہیں، جبکہ پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کا حجم تقریباً 250 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ ورچوئل اثاثوں کی ٹیکنالوجی پوری دنیا میں تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور دبئی اور تھائی لینڈ سمیت کئی حکومتیں اس شعبے کو اپنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان معاشی طور پر خودمختار ہونا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی نوجوانوں نے ملک کو دنیا کی تیسری بڑی کرپٹو مارکیٹ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق اسٹیٹ بینک نے تقریباً آٹھ سال تک ڈیجیٹل اثاثوں پر پابندی عائد کیے رکھی، تاہم ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کرنے سے ملک خود کو ترقی سے دور کر لیتا ہے۔

چیئرمین PVARA نے کہا کہ اتھارٹی نے ورچوئل اثاثوں سے متعلق دو بین الاقوامی کمپنیوں کو این او سی جاری کیے ہیں، جبکہ ورچوئل اثاثوں سے وابستہ اداروں کو 5 ستمبر تک رجسٹریشن کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورت دیگر ان کے خلاف پابندی کا عمل شروع کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے صرف پانچ ماہ میں ورچوئل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری نظام قائم کیا، جو دنیا میں تیز ترین پیش رفت ہے۔ پاکستان ریگولیشن کے معاملے میں بھارت سے آگے ہے۔

بلال بن ثاقب کے مطابق پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی مجموعی مارکیٹ کا حجم تقریباً 250 ارب ڈالر ہے، جبکہ ملک میں اس شعبے سے وابستہ 10 سے 20 ارب ڈالر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کو زیادہ تر 40 سال سے کم عمر افراد استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے ورچوئل اثاثوں پر 30 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے، تاہم پاکستان ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے مطابق ورچوئل اثاثوں پر ٹیکس کی شرح کا تعین زیر غور ہے، کیونکہ زیادہ ٹیکس عائد کرنے سے سرمایہ آف شور منتقل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو افراد پہلے ہی ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں، حکومت ان کی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کر رہی ہے۔

سیکریٹری کابینہ نے کمیٹی کو بتایا کہ لائسنس کے بغیر کرپٹو کرنسی کا کاروبار نہیں کیا جا سکے گا، جس سے فراڈ کے امکانات ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ اتھارٹی مستقل عملہ بھرتی کر رہی ہے اور اب تک سرکاری بجٹ کا صرف 8 فیصد استعمال کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو سالانہ تقریباً 41 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوتی ہیں، جبکہ لین دین کی لاگت کم ہونے سے مزید 2 ارب ڈالر ملک میں آسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت زرمبادلہ پاکستان منتقل کرنے کے لیے مزید سستے اور مؤثر طریقوں پر بھی غور کر رہی ہے۔

Advertisement
Advertisement