قرضوں کی ادائیگی کےلئے قرض لینے ک ضرورت ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات وخصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہاہےکہ پاکستان کو پائیدار ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں گے، آئندہ پانچ سالوں میں ترقی کا سنگ بنیاد رکھیں گے،سیاست کیلئے انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ سیاسی استحکام کے بغیر ترقی ممکن نہیں،اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ چوتھی بار منصوبہ بندی کا وزیر بنا ہوں،ہر بار اس وزارت میں کام کیا تو سیاسی عدم استحکام نے منصوبوں کو نقصان پہنچایا،سیاسی استحکام اور پالیسوں کے تسلسل تک ہم ترقی نہیں کرسکتے، ۔
احسن اقبال نے کہا کہ جب اپریل 2022 میں حکومت سنبھالی اس وقت سی پیک عملی طور پر بند ہوچکا تھا،گزشتہ 16 ماہ کی حکومت میں جے سی سی کے دو اجلاس ہوئے،اب ہم سی پیک فیز ٹو کو شروع کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اس وقت بجٹ قرضوں پر چل رہا ہے ،قرض کی ادائیگی کیلئے 7500 ارب روپے درکار ہیں ،ملک کی ٹیکس وصولی 7 ہزار ارب روپے ہے،ہمیں قرض لے کے کام چلانا پڑ رہا رہے۔
انہوں نے کہاکہ سابق حکومت کی نالائقی کے باعث قرض کا بوجھ 80 فیصد بڑھا ہے ،زراعت صنعتی شعبے اور آئی ٹی کے شعبے کی بحالی کی ضرورت ہے ،30 ارب ڈالر کی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے کے جانا ہےیہ کام اگلے 7 سال میں کرنا ہوگا ،حکومت نجی شعبے کی بحالی کیلئے اقدامات کرے گی ،طویل مدت ترقی کا ہدف رکھیں گے ،آئندہ پانچ سالوں میں ترقی کا سنگ بنیاد رکھیں گے،حکومت کی صلاحیت محدود ہے ہمیں نجی شعبے کی مدد درکار ہے ،اوورسیز پاکستانی ملک میں سرمایہ کاری کریں،وزارت منصوبہ بندی اوور سیز پاکستانیوں کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے ۔
انہوں نے کہاکہ میری اپوزیشن سے اپیل ہو گی کہ انتخابات کا عمل ہوچکا ،اب سیاسی عدم استحکام کی بجائے مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے ،سیاست کیلئے انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی،اپوزیشن کو بھی ترقیاتی عمل میں شریک کریں گے،وزیر اعظم نے عوام کو مہنگائی سے بچانے کیلئے اقدامات کا کہا ہے ،بجلی اور گیس میں عوام کو جلد ریلیف دیں گے ،اس وقت قرض ادا کرنے کیلئے مزید قرض لینا پڑ رہا ہے،بجلی اور گیس کے نظام سے چوری اور نااہلی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ،شمسی توانائی اور تھر کوئلے کو زیادہ فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

دشمن کو انجام تک پہنچائے بغیر جنگ بند نہیں کریں گے،اہداف کے حصول تک لڑائی جاری رہے گی،ایرانی جنرل
- 3 گھنٹے قبل
وزیر اعلی پنجاب نے فلم انڈسٹری سے کیا گیا وعدہ پورا کر دیا، فلمساز ہدایتکار اور ڈسٹربیوٹر زکو فنڈجاری
- 5 گھنٹے قبل

پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پرشدید تشویش کا اظہار
- 6 گھنٹے قبل

پاکستان کیخلاف افغان سرزمین کا استعمال ناقابلِ قبول ہے، فیلڈ مارشل
- 15 گھنٹے قبل
پنجاب میں جعلی ادویات کی فروخت، ڈرگ کنٹرول بورڈ نے 5 ادویات سے متعلق الرٹ جاری کردیا
- 5 گھنٹے قبل

ایران جنگ:وزیراعظم کے ملائیشیا اور انڈویشیا کے سربراہان سے رابطے،علاقائی وعالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
- ایک گھنٹہ قبل

سونے کی بڑھتی قیمتوں کو ریورس گئیر لگ گیا، فی تولہ ہزاروں روپے سستا
- 5 گھنٹے قبل

بانی پی ٹی آئی کوکو علاج کیلئے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری
- 5 گھنٹے قبل

عباس عراقچی کا ترک وزیر خارجہ سے رابط،ایران کی ترکیہ پر میزائل حملے کی تردید
- 5 گھنٹے قبل

دوسرا سیمی فائنل: انگلینڈ کا بھارت کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- ایک گھنٹہ قبل

فورسز کی افغان طالبان کے خالف کارروائیاں جاری،قندھار میں 205 کور کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ
- 5 گھنٹے قبل

وزیرِ اعظم سے جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، فغانستان، ایران اور مشرق وسطی ٰکے حالات پر بریفنگ
- 6 گھنٹے قبل




.jpg&w=3840&q=75)







