Advertisement

 ایران پر ابھی سخت حملے شروع نہیں کیے،  میزائل پروگرام کو ختم کرنا پہلی ترجیح ہے ،ٹرمپ 

ایران کے ساتھ ڈیل کی ،اس نے ہماری وارننگز کو نذرانداز کیا،ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے،ٹرمپ

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 months ago پر Mar 2nd 2026, 10:48 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
 ایران پر ابھی سخت حملے شروع نہیں کیے،  میزائل پروگرام کو ختم کرنا پہلی ترجیح ہے ،ٹرمپ 

واشنگٹن ڈی سی : امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر ابھی سخت حملے شروع نہیں کیے ،ایران کے بلیسٹک میزائل خطے کیلئے خطرہ ہے ان کو ختم کرنا ہماری پہلی ترجیح ہے

تفصیلات کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کیخلاف بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ،ہمارے اہداف واضح تھے ، پہلے ایرانی میزائل پروگرام کو ختم کرنا تھا،ایران جلد ایسے میزائل بنا سکتا تھا جو امریکا تک پہنچ سکیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی سائٹس کو نشانہ بنایا،ہم نے ماضی میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا، یقینی بنانا چاہتے ہیں ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے،ایران کی طرف زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

میڈیا سے گفتگومیں انہوںنے مزید کہا کہ ہم نے10 ایرانی بحری جہاز تباہ کیے ،ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام بہت تیزی سے بڑھ رہا تھا،ایران نے جوہری ہتھیاروں کے حصول کا سلسلہ روکنے سے انکار کر دیا تھا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے کیلئے 4 سے 5 ہفتوں کا ہدف رکھا ہے ،ہمارے پاس مزید وقت بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔امریکا اسرائیل کے حملوں میں ایران کے 49 سینئر رہنما مارے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں بہت جلد بڑی کارروائی کی ضرورت پڑسکتی ہے،ایران کے ساتھ ڈیل کی ،اس نے ہماری وارننگز کو نذرانداز کیا،ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے،ایران کے میزائل پروگرام کو ختم کرنا پہلی ترجیحی ہے۔

Advertisement
Advertisement