Advertisement
پاکستان

سابق جج جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار

شوکت عزیز صدیقی کو ریٹائرڈ جج تصور کیا جائے اور تمام مراعات دی جائیں، سپریم کورٹ

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Mar 22nd 2024, 8:01 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سابق جج جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن رضوی اور جسٹس عرفان سعادت پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے شوکت صدیقی کی آئینی درخواستوں پر سماعت 23 جنوری 2024 کو مکمل کی تھی۔

فیصلے میں سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت صدیقی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم قرار دے دی۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیلیں منظور کی جاتی ہیں، شوکت عزیز صدیقی کو ریٹائرڈ جج تصور کیا جائے اور تمام مراعات دی جائیں، کیس تاخیر سے مقرر ہونے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی کی عمر 62 سال پوری ہو چکی ہے، عمر پوری ہونے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی کو عہدے پر بحال نہیں کیا جاسکتا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ شوکت صدیقی ہائی کورٹ سے ریٹائرڈ جج ہوں گے۔

Advertisement