Advertisement
پاکستان

پولیس کا وکلاء پر تشدد، پاکستان بار کونسل کی جانب سے ملک بھرمیں ہڑتال کی کال

سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے مطالبات پرتوجہ نہیں دی جس کی وجہ سے آج جو نوبت آئی ہے، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر May 8th 2024, 9:08 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پولیس کا  وکلاء پر تشدد، پاکستان بار کونسل  کی جانب سے  ملک بھرمیں ہڑتال کی کال

لاہور میں پولیس اور وکلا کے درمیان شدید جھڑپ، پاکستان بار کونسل نے ملک بھرمیں ہڑتال کی کال دے دی

وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل اورصدرسپریم کورٹ بارکی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔

وائس چیئرمین پاکستان بار کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نےمطالبات پرتوجہ نہیں دی جس کی وجہ سے آج جو نوبت آئی ہے چیف جسٹس اس کے ذمہ دار ہیں، ہم پورے ملک کے وکلاء کو لاہور میں اکٹھا کریں گے۔

علاوہ ازیں سیکرٹری سپریم کورٹ بار علی عمران شاہ نے کہا کہ لاہور انتظامیہ وکلا پر مسلسل شیلنگ کرتی رہی اور متعدد وکیلوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ احسن بھون بھی پولیس تشدد اور شیلنگ سے زخمی ہوئے ہیں، وکلا کے مطالبات نہ ماننے کی وجہ سے یہ حالات بنے ہیں۔

اس حوالے سے صدرسپریم کورٹ بار نے کہا کہ معاملے پر چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کی ہے، چیف جسٹس کا موقف ہے کہ ہائیکورٹ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے۔

دوسری جانب صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شہزاد شوکت نے کہا کہ لاہور کے وکلا کے مطالبات سابق اورموجودہ چیف جسٹس جان بوجھ کرناکام بنا رہے ہیں، موجودہ چیف جسٹس کا ایجنڈا سمجھنے سےقاصرہوں۔ وکلا کےساتھ اپنایا گیا رویہ خود دہشتگردی ہے، چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ میں چھپ کربیٹھے ہوئے ہیں، پنجاب حکومت جس طرح اقتدارمیں آئی سب جانتے ہیں۔

شہزاد شوکت کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب حکومت چیف جسٹس کی بلیک میلنگ میں آکرتشدد کررہی ہے، چیف جسٹس ہائی کورٹ سن لیں اب ان سے مذاکرات نہیں ہونگے، چیف جسٹس صاحب ماڈل کورٹس کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔

Advertisement