جی این این سوشل

پاکستان

آرمی چیف کاایل او سی کا دورہ، گلے مورچوں پر تعینات جوانوں کے ساتھ عید منائی

جنرل عاصم منیر نے افسر و جوانوں کے ساتھ نماز عید ادا کی اور ملک میں امن و استحکام کیلئے دعا کی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

آرمی چیف  کاایل او سی  کا دورہ، گلے مورچوں پر تعینات جوانوں کے ساتھ عید منائی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے حاجی پیر سیکٹر کا دورہ کیا اور اگلے مورچوں پر تعینات جوانوں کے ساتھ عید منائی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایل او سی پہنچنے پر کور کمانڈر راولپنڈی نے آرمی چیف کا استقبال کیا، آرمی چیف نے افسر و جوانوں کے ساتھ نماز عید ادا کی اور ملک میں امن و استحکام کیلئے دعا کی۔ آرمی چیف نے شہداء کی قربانیوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا اور جوانوں کے بلند عزم اور حوصلے کو سراہا۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے شہداء کی قربانیوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا اور جوانوں کے بلند عزم اور حوصلے کو سراہا۔

اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ جوانوں کیلئے گھروں سے دور محاذ پر عید باعث فخر ہے، اپنے گھر والوں سے دور وطن کی حفاظت کے فرض کی ادائیگی زیادہ اہم ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت ملنا چاہیے۔

آرمی چیف نے کشمیریوں پر جاری بھارتی جبر کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی انتخابات کے بعد کشمیریوں پر ظلم وستم میں اضافہ ہوا ہے، بھارت کے سیاسی مقاصد کیلئے فالس فلیگ آپریشن معمول بنتے جا رہے ہیں، پاکستان خطے میں امن و استحکام کا حامی ہے لیکن کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، قوم کی حمایت سے دشمن کو بھرپور جواب دیں گے۔

دنیا

ڈیموکریٹس کی اکثریت بائیڈن کو انتخابی دوڑ سے باہر دیکھنا چاہتی ہے، سروے

نیا پول بائیڈن کے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ ٹرمپ سے مباحثے کے بعد ڈیموکریٹس کی اکثریت اب بھی ان کی حمایت کرتی ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ڈیموکریٹس کی اکثریت بائیڈن کو انتخابی دوڑ سے باہر دیکھنا چاہتی ہے، سروے

لگ بھگ دو تہائی ڈیموکریٹس نے سروے میں کہ دیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو جانا چاہیے اور ان کی پارٹی کو ایک مختلف امیدوار کھڑا کرنے دینا چاہیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ نیا پول بائیڈن کے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ ٹرمپ سے مباحثے کے بعد ڈیموکریٹس کی اکثریت اب بھی ان کی حمایت کرتی ہے۔ یاد رہے اس مباحثے کے بعد کچھ بڑے ناموں نے بائیڈن کی حمایت چھوڑ دی ہے۔

اے پی این او آر سی سنٹر فار پبلک افیئر ریسرچ کے ایک نئے سروے کے مطابق 10 میں سے صرف تین ڈیموکریٹس کو بہت زیادہ یقین ہے کہ بائیڈن کے پاس دفتر میں مؤثر طریقے سے خدمت کرنے کی ذہنی صلاحیت موجود ہے۔ یہ فروری میں کئے گئے ایک سروے میں 40 فیصد کی حایت سے تھوڑی کم حمایت ہے۔

یہ نتائج ان چیلنجوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کا سامنا 81 سالہ صدر کو ہے کیونکہ وہ اپنی پارٹی کے اندر سے دوڑ چھوڑنے کے مطالبات کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہے اور ڈیموکریٹس کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے بہترین امیدوار ہیں۔

یہ رائے شماری اصل میں ٹرمپ پر ہفتہ 13 جولائی کو پنسلوانیا میں قاتلانہ حملے سے پہلے کی گئی تھی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ پر فائرنگ کے واقعہ نے بائیڈن کے بارے میں لوگوں کے خیالات کو متاثر کیا ہے یا نہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی کا ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

تعطیلات کے دوران 4 اہڈہاک ججز کو 3 سال کے لیے سپریم کورٹ لانا بدنیتی پر مبنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی کا ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ساتھ تعطیلات کے دوران 4 اہڈہاک ججز کو 3 سال کے لیے سپریم کورٹ لانا بدنیتی پر مبنی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں ہمارے اور اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آج پارلیمانی کمیٹی نے اہم فیصلے کیے، سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کو لگانا مناسب نہیں سمجھتے۔ایڈہاک ججز آزاد عدلیہ کے لیے مضر ہے، ہم معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج رہے ہیں، ججز اس معاملے کو متنازع نہ بنائیں، آج فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں لگانے والے ایڈہاک ججز کو لگایا گیا وہ بدنیتی پر مبنی ہے۔

بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ 4 ججز کو ایک ساتھ دوران تعطیلات لایا جا رہا ہے، 3 سال کے لیے ان چار کو لانا بدنیتی پر مبنی ہے۔ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے، مخصوص نشستوں کےفیصلے پر عمل کرانا سپریم کورٹ کا کام ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرانا چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہر صورت اس فیصلے پر عمل درآمد ہو۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کے 70 فیصد عوام کی ترجمان جماعت ہے، پی ٹی آئی پر کوئی بھی پابندی حکومت کے خاتمے کی طرف کاؤنٹ ڈاؤن ہوگا، پی ٹی آئی محب وطن پارٹی تھی، ہے اور رہے گی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ ہمارے اتحادی جماعت کے ساتھیوں نے علامتی مارچ کیا ہے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سمیت تمام افراد کو رہا کیا جائے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف جعلی کیسزکی مذمت کرتے ہیں۔ بشریٰ بی بی پر جعلی کیس کیا گیا جس سے انہیں بری کردیا گیا، نیب ٹیم نے جھوٹے کیسز میں پھر گرفتار کیا جس کی مذمت کرتے ہیں، ہم ان تمام بوگس کیسز کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ ایڈہاک ججز ہمارے کیسز نہ سنیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ عمران خان کے خلاف مضامین لکھتی رہی ہیں، انہوں نے اپنا مائنڈ دیا، چیف جسٹس کو عمران خان سے متعلق کوئی کیس نہیں سننا چاہیئے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ میں ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ چیف الیکشن کمشنر اور اس کے دیگر ممبران فوری مستعفی ہوں ورنہ ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروئی ہونی چاہیئے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا کہ جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، سپریم کورٹ فیصلے سے مینڈیٹ عوامی نمائندوں کی طرف جارہا ہے۔حکمران ٹولے کے پاس آپشن ختم ہوگئے ہیں، کہا جارہا ہے حکومت 18 ماہ کی مہمان ہے، پی ٹی آئی پر پابندی انتہائی بھونڈا اقدام ہوگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اس حکومت کا غریب اور محنت کش سے کوئی تعلق نہیں، عمر ایوب

غریب پہلے ہی مہنگائی میں پس رہے ہیں اور ملک میں افراط زر مزید اوپر جائے گی، رہنما پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اس حکومت کا غریب اور محنت کش سے کوئی تعلق نہیں، عمر ایوب

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ پیٹرول اور بجلی بلوں میں اضافہ کسی بھی صورت قبول نہیں ہے، تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے اور رہے گی، اس حکومت کا غریب اور محنت کش سے کوئی تعلق نہیں ، غریب پہلے ہی مہنگائی میں پس رہے ہیں اور ملک میں افراط زر مزید اوپر جائے گی۔

اڈیالہ جیل کے باہر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت میں عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اس حکومت کا غریب اور محنت کش سے کوئی تعلق نہیں، حکومت کے لوگ صرف پیسے بنانے کےلیے آئے ہیں۔پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ حکومت کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ کرپشن ہے۔ملک میں مہنگائی عروج پر ہے، حکومت گندم برآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

عمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے بیٹوں کی بات کرنا قانونی حق ہے۔ ہمارے لیڈر کو جیل میں ڈالا لیکن پارٹی نہیں ٹوٹی، پی ٹی آئی ایک پارٹی ہے اور رہے گی۔ ہم نے اسپیکر قومی اسمبلی کو تحریک استحقاق جمع کروا دی جس میں کہا گیا ہے ہم بانی تحریک انصاف کو ملنے اڈیالہ جیل 4 جولائی کو گئے اور ہم اڈیالہ جیل کے گیٹ پر ساڑھے چار گھنٹے انتظار کرتے رہے مگر ملاقات نہیں کروائی گئی۔

عمر ایوب کا کہنا تھا میں کئی بار اڈیالہ جیل جا چکا ہوں اکثر بانی تحریک انصاف سے ملاقات سے انکار کیا گیا جہاں مجھے اور دیگر ارکان پارلیمنٹ کو بغیر کسی پنکھے اور پانی کے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ہم بطور ممبر قومی اسمبلی مطالبہ کیا کہ مذکورہ بالا سرکاری ملازمین کو استحقاق کمیٹی کے سامنے طلب کیا جائے اور تمام افسران سے پوچھا جائے کہ قومی اسمبلی کے ممبران کا استحقاق کیوں پامال کیا گیا؟ اور ان کے خلاف قواعد کے مطابق سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll