جی این این سوشل

پاکستان

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آپریشن عظم استحکام کی مخالفت کردی

انہوں نے کہا کہ اگر شروع کیا گیا تو اس کے نتیجے میں مزید عدم استحکام آئے گا، انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں دوسروں کے فیصلوں کا خمیازہ بھگتیں گی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے  آپریشن عظم استحکام کی مخالفت کردی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیر کے روز اپنی جماعت کی جانب سے نئی اعلان کردہ فوجی مہم 'آپریشن عظم استحکام' کی مخالفت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر شروع کیا گیا تو اس کے نتیجے میں مزید عدم استحکام آئے گا، انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں دوسروں کے فیصلوں کا خمیازہ بھگتیں گی۔


ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، رحمان نے کہا، "ریاست کی اتھارٹی بہت سے علاقوں میں کمزور ہے، کالعدم تنظیمیں آزادانہ طور پر کام کر رہی ہیں اور عوام میں خوف پھیلا رہی ہیں"۔

موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے رحمان، جو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت بھی کرتے ہیں، نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم شہباز شریف محض ایک شخصیت ہیں۔ انہوں نے ریاست کو اپنے شہریوں کے تئیں اپنی روش کو ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تجویز کیا کہ مثبت نتائج کے لیے انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔


ہفتے کے روز، حکومت نے ملک میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے ایک فوجی آپریشن شروع کیا۔


تاہم اس اقدام کو جے یو آئی-ایف اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دونوں نے مشترکہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان

توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کا گرفتاری کے خلاف عدالت سے رجوع

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سیاسی انتقام کے لیے جعلی مقدمات میں بغیر جواز گرفتار کیا گیا، موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کا  گرفتاری کے خلاف عدالت سے رجوع

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری کے ذریعے درخواست دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سیاسی انتقام کے لیے جعلی مقدمات میں بغیر جواز گرفتار کیا گیا، سیاسی مخالف وفاقی اور پنجاب حکومت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو زیر حراست رکھنا چاہتے ہیں۔

دونوں ملزمان کو طلبی کے نوٹسز کے خلاف درخواستیں زیر سماعت ہونے کے دوران گرفتار کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست زیر سماعت ہونے کے دوران گرفتاری بدنیتی کا ثبوت ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق سیاسی مخالفین نیب کو مسلسل سیاسی انتقام کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اعلیٰ عدالتیں اپنے فیصلوں میں زور دے چکیں کہ محض مقدمہ درج ہونے پر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

استدعا کی گئی کہ گرفتاری غیر قانونی ہے رہا کرنے کے احکامات کیے جائیں اور آئندہ کسی بھی مقدمے میں گرفتاری ہائیکورٹ کے احکامات سے مشروط کی جائے۔
 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی کا ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

تعطیلات کے دوران 4 اہڈہاک ججز کو 3 سال کے لیے سپریم کورٹ لانا بدنیتی پر مبنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی کا ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ساتھ تعطیلات کے دوران 4 اہڈہاک ججز کو 3 سال کے لیے سپریم کورٹ لانا بدنیتی پر مبنی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں ہمارے اور اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آج پارلیمانی کمیٹی نے اہم فیصلے کیے، سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کو لگانا مناسب نہیں سمجھتے۔ایڈہاک ججز آزاد عدلیہ کے لیے مضر ہے، ہم معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج رہے ہیں، ججز اس معاملے کو متنازع نہ بنائیں، آج فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں لگانے والے ایڈہاک ججز کو لگایا گیا وہ بدنیتی پر مبنی ہے۔

بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ 4 ججز کو ایک ساتھ دوران تعطیلات لایا جا رہا ہے، 3 سال کے لیے ان چار کو لانا بدنیتی پر مبنی ہے۔ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے، مخصوص نشستوں کےفیصلے پر عمل کرانا سپریم کورٹ کا کام ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرانا چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہر صورت اس فیصلے پر عمل درآمد ہو۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کے 70 فیصد عوام کی ترجمان جماعت ہے، پی ٹی آئی پر کوئی بھی پابندی حکومت کے خاتمے کی طرف کاؤنٹ ڈاؤن ہوگا، پی ٹی آئی محب وطن پارٹی تھی، ہے اور رہے گی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ ہمارے اتحادی جماعت کے ساتھیوں نے علامتی مارچ کیا ہے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سمیت تمام افراد کو رہا کیا جائے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف جعلی کیسزکی مذمت کرتے ہیں۔ بشریٰ بی بی پر جعلی کیس کیا گیا جس سے انہیں بری کردیا گیا، نیب ٹیم نے جھوٹے کیسز میں پھر گرفتار کیا جس کی مذمت کرتے ہیں، ہم ان تمام بوگس کیسز کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ ایڈہاک ججز ہمارے کیسز نہ سنیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ عمران خان کے خلاف مضامین لکھتی رہی ہیں، انہوں نے اپنا مائنڈ دیا، چیف جسٹس کو عمران خان سے متعلق کوئی کیس نہیں سننا چاہیئے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ میں ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ چیف الیکشن کمشنر اور اس کے دیگر ممبران فوری مستعفی ہوں ورنہ ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروئی ہونی چاہیئے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا کہ جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، سپریم کورٹ فیصلے سے مینڈیٹ عوامی نمائندوں کی طرف جارہا ہے۔حکمران ٹولے کے پاس آپشن ختم ہوگئے ہیں، کہا جارہا ہے حکومت 18 ماہ کی مہمان ہے، پی ٹی آئی پر پابندی انتہائی بھونڈا اقدام ہوگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

توشہ خانہ ریفرنس، عمران خان اور بشریٰ بی بی سے تفتیش کا چوتھا مرحلہ مکمل

نیب کی ٹیم نے عمران خان اور بشریٰ بی بی سے چوتھی بار تفتیش کی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

توشہ خانہ ریفرنس،  عمران خان اور  بشریٰ بی بی سے تفتیش کا چوتھا مرحلہ مکمل

توشہ خانہ ریفرنس،قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے تفتیش کا چوتھا مرحلہ مکمل کرلیا، ٹیم نے ملزمان سے توشہ خانہ تحائف کے حوالے سے تفتیش کی۔

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ نئے ریفرنس کی تفتیش کے لیے نیب ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر محسن ہارون کی سربراہی میں اڈیالہ جیل پہنچی، تفتیشی ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر مستنصر عباس بھی شامل تھے۔

نیب کی تفتیشی ٹیم گیٹ 5 سے اڈیالہ جیل کے اندر داخل ہوئی اور عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے چوتھی مرتبہ تفتیش کی، جس کے بعد نیب ٹیم اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوگئی۔

ٹیم نے ملزمان سے توشہ خانہ تحائف کے حوالے سے تفتیش کی، تفتیش میں ملزموں سے تحفے میں ملنے والے جیولری سیٹ سے متعلق چند سوالات کیے گئے۔قومی احتساب بیورو (نیب) کی تفتیشی ٹیم نے عمران خان اور بشریٰ بی بی سے تقریباً ایک گھنٹہ تک تفتیش کی۔

واضح رہے کہ نیب نے ملزمان کا احتساب عدالت سے 8روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے ۔ ملزمان کو 22جولائی کو دورباہ تفتیشی پیش رفت رپورٹ کے ساتھ دوبارہ عدالت پیش کیا جائے گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll