بھارتی حکومت نے ووٹروں اور اپوزیشن کے امیدواروں کو ڈرانے کے لیے خطے میں اپنی 10 لاکھ فورس تعینات کیے ہیں


سری نگر: جموں و کشمیر کا مسئلہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہئے، مسئلہ کشمیر کا واحد قابل قبول حل اقوام متحدہ کی زیر نگرانی استصواب رائے ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کو 5 نشستیں الاٹ کی گئی ہیں، 3 مہاجروں کے لیے اور 2 پنڈتوں کے لیے جس سے ریاستی اسمبلی میں بی جے پی کے لیے جوڑ توڑ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جبکہ چیف منسٹر کے اختیارات میں کمی کردی گئی ہے۔
بھارتی حکومت نے ووٹروں اور اپوزیشن کے امیدواروں کو ڈرانے کے لیے خطے میں اپنی 10 لاکھ فورس تعینات کیے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی الیکشن میں منظم دھندلی کی تیاری عروج پر ہے، لیفٹیننٹ گورنر کو پولیس، پبلک آرڈر، آل انڈیا ایس وی سی اور ٹرانسفر اور پوسٹنگ سے متعلق مزید اختیارات دے دیے گئے۔
حریت رہنما یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائےجانے کےبعد اب این آئی اے کے ذریعہ گرفتار دیگر افراد پر مقدمہ چل رہا ہے جن میں آسیہ اندرابی بھی شامل ہیں، 5 اگست 2019 سے نئی پارٹیاں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مرکزی دھارے کی جماعتوں اور مسلم اکثریت کو کمزور کیا جا سکے۔
حد بندی کےتحت کلیدی نتائج میں جموں کو 6 اضافی نشستیں اور کشمیر کو 1 مختص کردیاگیاہے.
مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار اسرائیلی ماڈل کی پیروی کر رہا ہے جس میں مجموعی ایچ آر وی اور مسلم اکثریت علاقوں کو مسلم اقلیت میں تبدیل کررہی ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مرکزی حریت قیادت یا تو نظربند ہے یا پھر انہیں این اے، ایس آئی اے، ای ڈی اور عدالتوں کے ذریعے مجبور کیا جا رہا ہے تاکہ الیکشن میں بی جے پی کے حمایت یافتہ افراد کی فتح کو یقینی بنایا جائے۔
بھارتی حکومت نے ووٹروں اور اپوزیشن کے امیدواروں کو ڈرانے کے لیے خطے میں اپنی 10 لاکھ فورس بھی تعینات کی ہے۔تقریر اور اسمبلی کی آزادی کو محدود کیا اور انتخابی عمل کو اپنے پراکسیوں کے حق میں جھکا دیا ہے۔
مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کے لیے ڈومیسائل کے اجراء کے ذریعے وادی کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کررہی ہے،ریاستی اسمبلی کی نشستوں میں غیر متناسب اضافہ کیا گیا۔ہندو اکثریت ظاہر کرنے کے لیے 22 حلقوں کو جیری مینڈرنگ کے ذریعے دوبارہ تیار کیا گیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں الیکشن لڑنے والے 908 امیدواروں میں سے 40 فیصد سے زیادہ (360) آزاد امیدوار ہیں۔ ان آزاد امیدوار وں کو بی جے پی اور ایس ایف نے مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کے غرض سے اپنے قریب رکھا ہوا ہے جبکہ اے پی ایچ سی پر پابندی ہے اور تقریباً 48 رہنما غیر قانونی حراست میں ہیں۔
نئی حد بندی کےتحت کلیدی نتائج میں جموں کو 6 اضافی نشستیں اور کشمیر کو ایک مختص کی گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے گھٹن زدہ ماحول میں انتخابات، جمہوری عمل کی صداقت پر شکوک پیدا کرتے ہیں ۔
مقبوضہ کشمیر میں تقریباً 10 لاکھ فوج کی موجودگی، انتخابی عمل سے زیادہ فوجی مشق کا تاثر دے رہی ہیں جس سے جموں و کشمیر میں پر امن حالات کا تاثر دینے کی کوشش کی نفی ہوتی ہے، مقبوضہ کشمیر میں آخری مردم شماری 2011 میں کی گئی تھی، ہندوستانی حکومت 13 سال گزرنے کے بعد بھی تازہ مردم شماری نہیں کر سکی۔

میانوالی :سی ٹی ڈی کے چھاپےکے دوران 6 مبینہ دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
- 7 گھنٹے قبل

محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برفباری کی پیش گوئی کر دی
- 11 گھنٹے قبل

کوئٹہ، گھر میں گیس لیکج کے باعث دم گھٹنے سے 4 افراد جاں بحق
- 6 گھنٹے قبل

ایک ننھا چہرہ، ایک بڑی آزمائش، آزاد کشمیر کا نوجوان سعد علاج کا منتظر
- 6 گھنٹے قبل

قومی شناختی نظام میں بڑا انقلاب،فنگر پرنٹ پر مبنی تصدیق کو جدید فیس ریکگنیشن سسٹم سے تبدیل کرنے کا فیصلہ
- 11 گھنٹے قبل

سانحہ بھائی گیٹ کی انکوائری رپورٹ مکمل، ایس پی سٹی ، ایس ڈی پی او، ایس ایچ او قصور وار قرار
- 6 گھنٹے قبل

پنجاب حکومت نےشب برات کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کردیا،نوٹیفکیشن جاری
- 8 گھنٹے قبل

ایران کے ساتھ مزید بات چیت کا ارادہ ہے، امید ہے فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں پڑے گی، ٹرمپ
- 10 گھنٹے قبل

سانحہ گل پلازہ : ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ کوعہدے سےہٹا دیا گیا
- 9 گھنٹے قبل

فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر سے ترک چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات، علاقائی سلامتی ،دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال
- 6 گھنٹے قبل

خیبرپختونخوا میں نیپا وائرس پھیلنے کا خدشہ،صوبائی محکمہ صحت ہائی الرٹ
- 7 گھنٹے قبل
آئی سی سی نے ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا
- 9 گھنٹے قبل









