Advertisement
Mobin
Advertisement
پاکستان

21ویں ترمیم کے مطابق سیاسی جماعتوں کے کیسز آرمی کورٹ میں نہیں چلیں گے، جسٹس جمال مندوخیل

پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو ملٹری ٹرائل کیوں نہ ہوا، پارلیمنٹ سب سے سپریم کورٹ ہے، آئینی بینچ

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jan 17th 2025, 4:48 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
21ویں ترمیم کے مطابق سیاسی جماعتوں کے کیسز آرمی کورٹ میں نہیں چلیں گے، جسٹس جمال مندوخیل

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سامنے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 21ویں ترمیم میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے کیسز آرمی کورٹ میں نہیں چلیں گے، پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو ملٹری ٹرائل کیوں نہ ہوا، پارلیمنٹ سب سے سپریم کورٹ ہے۔ کیا پارلیمنٹ خود پر حملے کو توہین نہیں سمجھتی۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل جاری ہیں۔

وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ آرمی ایکٹ اور رولز میں فیئر ٹرائل کا مکمل پروسیجر فراہم کیا گیا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آپ ملٹری ٹرائل کے کس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں؟

وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ میں کسی فیصلے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا۔ جسٹس عائشہ ملک نے سیکشن 2 ون ڈی ون کو فیئر ٹرائل کے منافی قرار دیا جبکہ جسٹس آفریدی نے قانونی سیکشنز پر رائے نہیں دی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ قانونی سیکشنز پر لارجر بینچز کے فیصلوں کا پابند ہوں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ 21 ویں ترمیم میں فیصلے کی اکثرت کیا تھی؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ 21ویں ترمیم کا اکثریتی فیصلہ 8 ججز کا ہے، 21 ترمیم کو اکثریت ججز نے اپنے اپنے انداز سے ترمیم کو برقرار رکھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21ویں ترمیم کو 8 سے زیادہ ججز نے درست قرار دیا۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کا لیاقت حسین کیس کا فیصلہ 9 ججز کا ہے، لیاقت حسین کیس میں ایف بی علی کیس کی توثیق ہوئی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21ویں ترمیم کیس میں اکثریت ججز نے ایف بی علی کیس کو تسلیم کیا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا 21ویں ترمیم کیس میں کسی جج نے ایف بی علی کیس پر جوڈیشل نظر ثانی کی رائے دی؟ وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے بتایا کہ کسی جج نے نہیں کہا کہ ایف بی علی فیصلے پر جوڈیشل ریویو ہونا چاہیے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے 9مئی ملٹری ٹرائل پر رائے دی آرمی ایکٹ کی شقوں پر فیڈریشن کو مکمل سنا ہی نہیں گیا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ کیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر اٹارنی جنرل 27 اے کا نوٹس دیا گیا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب کے نوٹ سے تو لگتا ہے اٹارنی جنرل کو سنا ہی نہیں گیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل میں کہا کہ بینچ نے اٹارنی جنرل کو کہا تھا دلائل آرمی ایکٹ کی شقوں کے بجائے نو اور دس مئی واقعات پر مرکوز رکھیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو عجیب بات ہے، پہلے کہا گیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر بات نہ کریں، پھر شقوں کو کالعدم بھی قرار دے دیا گیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے تو عدالت میں کھڑے ہو کر کہا تھا ہم نے آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج ہی نہیں کیا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ویڈیو لنک پر موجود فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے یہ بات سن لی ہے۔

ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے کہا کہ جی میں نے کہا تھا کیس کو آرمی ایکٹ کے بجائے آئین کے تحت دیکھا جائے، نو مئی واقعات کے خلاف دیگر درخواستیں دائر کی گئیں جن میں آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی ون اور ٹو ون ڈی ٹو کو کالعدم قرار دینے سے قبل فیڈریشن کو مکمل شنوائی کا حق ملنا چاہیے تھا، عدالت کا فوکس نو اور دس مئی واقعات پر تھا نہ کہ آرمی ایکٹ کی شقوں پر۔ احتجاج اور حملہ میں فرق ہے۔

جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ 21 جولائی 2023 کے آرڈر میں صرف 9 مئی کی بات کی گئی ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلہ میں نو مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی۔ سوال ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل کہاں پر ہوگا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جرائم قانون کی کتاب میں لکھے ہے، اگر جرم آرمی ایکٹ میں فٹ ہوگا تو ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوگا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21ویں ترمیم میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے کیسز آرمی کورٹ میں نہیں چلیں گے۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سیاسی سرگرمی کی ایک حد ہوتی ہے، ریاست املاک پر حملہ ریاست کی سکیورٹی توڑنا سیاسی سرگرمی نہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21ویں ترمیم کے بغیر دہشت گردوں کے خلاف ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا تھا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ 21ویں ترمیم میں قانون سازی دیگر مختلف جرائم اور افراد پر مبنی تھی۔

جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس میں کہا کہ پولیس اہلکار کی وردی پھاڑنا جرم ہے، یہاں کور کمانڈرلاہور کا گھر جلایا گیا، ایک دن ایک ہی وقت مختلف جگہوں پر حملے ہوئے۔ عسکری کیمپ آفیسز پر حملے ہوئے، پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلایا گیا۔

جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ ماضی میں لوگ شراب خانوں یا گورنر ہاوس پر احتجاج کرتے تھے لیکن پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ مختلف شہروں میں ایک وقت حملے ہوئے، جرم سے انکار نہیں ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو ملٹری ٹرائل کیوں نہ ہوا، پارلیمنٹ سب سے سپریم کورٹ ہے۔ کیا پارلیمنٹ خود پر حملے کو توہین نہیں سمجھتی۔

جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ پر بھی حملہ ہوا وہ بھی سنگین تھا، سپریم کورٹ کو بھی شامل کریں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ یہاں بات 2 ون ڈی ون کی ہے۔

Advertisement
Moib
معروف گلوکار عمران ہاشمی کا نیا نعتیہ کلام”یا مصطفی “ ریلیز

معروف گلوکار عمران ہاشمی کا نیا نعتیہ کلام”یا مصطفی “ ریلیز

  • 2 hours ago
سپریم لیڈر اسرائیلی وامریکی حملے میں شہید، ایرانی سرکاری ٹی وی کی تصدیق

سپریم لیڈر اسرائیلی وامریکی حملے میں شہید، ایرانی سرکاری ٹی وی کی تصدیق

  • 2 hours ago
لاہوراور کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر مظاہرین کا شدید احتجاج، جھڑپوں کے دوران 9 افراد جاں بحق

لاہوراور کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر مظاہرین کا شدید احتجاج، جھڑپوں کے دوران 9 افراد جاں بحق

  • 2 hours ago
ٹی 20 ورلڈکپ: پاکستان کا سری لنکا کو جیت کیلئے 213 رنز کا ہدف

ٹی 20 ورلڈکپ: پاکستان کا سری لنکا کو جیت کیلئے 213 رنز کا ہدف

  • a day ago
ایرانی چیف آف اسٹاف اور وزیر دفاع بھی اسرائیلی و امریکی حملوں میں شہید ہوگئے،ایرانی میڈیا

ایرانی چیف آف اسٹاف اور وزیر دفاع بھی اسرائیلی و امریکی حملوں میں شہید ہوگئے،ایرانی میڈیا

  • 2 hours ago
شہادت کے بعدسپریم لیڈر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری خصوصی پیغام توجہ کا مرکز بن گیا

شہادت کے بعدسپریم لیڈر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری خصوصی پیغام توجہ کا مرکز بن گیا

  • 2 hours ago
صہیونی سفاکیت کی انتہا:گرلز پرائمری اسکول پر اسرائیلی حملے میں 51 افراد جاں بحق،درجنوں زخمی

صہیونی سفاکیت کی انتہا:گرلز پرائمری اسکول پر اسرائیلی حملے میں 51 افراد جاں بحق،درجنوں زخمی

  • 21 hours ago
دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ،ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد

دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ،ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد

  • 2 hours ago
آیت اللہ اعرافی قیادت کونسل کے فقیہ مقرر، کونسل عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض انجام دیگی

آیت اللہ اعرافی قیادت کونسل کے فقیہ مقرر، کونسل عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض انجام دیگی

  • 7 minutes ago
خطے میں کشیدگی کے باعث وزیراعظم کا دو روزہ دورہ روس منسوخ، سیکیورٹی صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب

خطے میں کشیدگی کے باعث وزیراعظم کا دو روزہ دورہ روس منسوخ، سیکیورٹی صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب

  • 2 hours ago
محسن نقوی کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات،ملکی سیکیورٹی اور مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

محسن نقوی کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات،ملکی سیکیورٹی اور مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

  • an hour ago
سی آئی اےنے سپریم لیڈر آیت اللہ کی لوکیشن معلوم کر کے اسرائیل کو فراہم کی ، امریکی اخبا ر کا دعویٰ

سی آئی اےنے سپریم لیڈر آیت اللہ کی لوکیشن معلوم کر کے اسرائیل کو فراہم کی ، امریکی اخبا ر کا دعویٰ

  • 2 hours ago
Advertisement