Advertisement
پاکستان

پیکا ایکٹ میں ترامیم آزادی صحافت پر شب خون مارنے کے مترادف ہیں،بیرسٹر سیف

جعلی حکومت نے کالے قوانین کے ذریعے ذرائع ابلاغ کی آزادی سلب کر لی ہے، مشیر اطلاعات کے پی

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jan 24th 2025, 5:05 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پیکا ایکٹ میں ترامیم آزادی صحافت پر شب خون مارنے کے مترادف ہیں،بیرسٹر سیف

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے پیکا ایکٹ میں ترامیم کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ پیکا ایکٹ میں ترامیم آزادی صحافت پر شب خون مارنے کے مترادف ہیں، یہ ڈیجیٹل نیشن برباد پاکستان بل ہے، ترامیم کا مقصد سیاہ کارناموں کو میڈیا سے چھپانا ہے۔

اپنے ایک بیان میں مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت نے کالے قوانین کے ذریعے ذرائع ابلاغ کی آزادی سلب کر لی ہے۔

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ جعلی حکومت نے 26ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی پر وار کیا ہے، اب پیکا ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے آزادیِ صحافت کو بھی سلب کر لیا گیا ہے، اقتدار کے دوام کے لئے جعلی حکومت نے آزادیِ صحافت کو بھی نگل لیا ہے۔

بیرسٹر محمدعلی سیف نے مزید کہا کہ ہم اس کالے قانون کے خلاف صحافی برادری کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، جعلی حکومت میں کوئی بھی ایسا ادارہ نہیں بچا جسے تباہ نہ کیا گیا ہو، ایسی سخت پابندیاں بدترین امریت میں بھی نہیں دیکھی گئیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی نے بھی سوشل میڈیا قوانین سخت کرنے کا پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور کیا جس کے بعد قائمہ کمیٹی اجلاس سے پی ٹی آئی کارکن سمیت قومی اسمبلی اجلاس سے صحافی پریس گیلری سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔

بل کی منظور کی بعد صحافی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ صحافی جوائںٹ ایکشن کمیٹی نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل مسترد کر دیا ہے۔

Advertisement
Advertisement