Advertisement
پاکستان

متنازع پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

جس میں وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jan 29th 2025, 2:55 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
متنازع پیکا ترمیمی ایکٹ 2025  لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا، درخواست ممبر لاہور پریس کلب جعفر بن یار نے اپنے وکیل کے توسط سے درخواست دائر کی، جس میں وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کی جانب سے موقف پیش کیا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی نے پیکا ترمیم سے متعلق بل منظور کیے ، پیکا بل منظوری کے لیے اسمبلی نے اپنے رولز معطل کر کہ اسے 6 فاسٹ ٹریک کیا، پیکا ترمیمی ایکٹ کے تحت فیک انفارمیشن پر تین برس قید اور جرمانے کی سزا ہو گی۔

جعفر بن یار نے موقف اپنایا ہے کہ ماضی میں پیکا کو خاموش ہتھیار کے طور استعمال کیا جاتا رہا ہے، پیکا ترمیمی ایکٹ میں نئی سزاؤں کے اضافے سے ملک میں رہ جانے والی تھوڑی سی آزادی بھی ختم ہو جائے گی، پیکا بل متعلقہ سٹیک ہولڈرز اور صحافتی تنظیموں کی مشاورت کے بغیر لایا گیا۔

درخواست گزار کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیکا ترمیمی بل کی منظوری سے آئین میں دی گئی آزادی اظہار شدید متاثر ہو گی، پیکا ترمیمی ایکٹ غیر آئینی اور آئین میں دی گئی آزادی اظہار کے تحفظ سے متصادم ہے۔

صحافی جعفر بن یار نے استدعا کی ہے کہ عدالت پیکا ترمیمی ایکٹ کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دے، عدالت پیکا ترمیمی ایکٹ کے تحت ہونے والی کارروائیوں کو درخواست کے حتمی فیصلے سے مشروط کرے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد گزشتہ روز سینیٹ نے بھی متنازع پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی تھی، جس کے خلاف ملک بھر میں صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

Advertisement
Advertisement