Advertisement

واشنگٹن طیارہ حادثہ، نائن الیون کے بعد بدترین فضائی سانحہ قرار، تمام 67 افراد ہلاک

حادثے میں طیارے میں عملے سمیت 64 افراد اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں 3 فوجی اہلکار سوار تھے

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jan 31st 2025, 2:08 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
واشنگٹن طیارہ حادثہ، نائن الیون کے بعد بدترین فضائی سانحہ قرار، تمام 67 افراد ہلاک

واشنگٹن کے رونالڈ ریگن ایئرپورٹ کے قریب مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 67 افراد کی ہلاکت کو نائن الیون کے بعد بدترین فضائی سانحہ قرار دیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن کے قریب ہونے والے ایک بدترین فضائی حادثے میں طیارہ اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں سوار تمام 67 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔حادثے میں طیارے میں عملے سمیت 64 افراد اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں 3 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے کے بعد دریا سے بیشتر لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

پینٹاگون نے اس حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اس واقعے کو نائن الیون کے بعد سے 23 برسوں میں سب سے بدترین فضائی حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حادثے کا ذمہ دار سابق صدر جو بائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی کو ٹھہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی میں ہر قسم کے ناتجربہ کار افراد کی بھرتیوں کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ہے، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔

امریکا میں مسافر طیارے سے فوجی ہیلی کاپٹر ٹکرائے جانے کے واقعہ میں ہلاک مسافروں میں ایک پاکستانی خاتون عسری حسین  بھی شامل تھی۔عسری حسین کے شوہر حماد رضا نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ 30 جنوری کو رات 8 بجے کے قریب جیسے ہی طیارہ ریگن نیشنل ائیرپورٹ کے قریب پہنچا تو ان کی اہلیہ نے موبائل فون پر انہیں ٹیکسٹ میسج کیا کہ ان کا طیارہ لینڈ کرنے والا ہے۔ حماد نے جوابی پیغامات بھیجے تو وہ وصول نہیں کیے جاسکے جس کا مطلب انہوں نے یہ سمجھا کہ کوئی گڑ بڑ ہوگئی ہے۔ بدقسمتی سے عسری کا بھی یہ آخری پیغام ثابت ہوا۔

Advertisement
Advertisement