Advertisement

غزہ میں اسرائیلی فائرنگ اور بمباری سے شہداء کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی، امدادی مراکز بھی نشانہ

الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ہلاکتیں اسرائیل اور امریکا کی حمایت یافتہ متنازع تنظیم "غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن" کے امدادی مراکز پر کیے گئے حملوں کے دوران ہوئیں۔

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jul 3rd 2025, 9:45 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
غزہ میں اسرائیلی فائرنگ اور بمباری سے شہداء کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی، امدادی مراکز بھی نشانہ

 

 

غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 300 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان میں اکثریت اُن افراد کی ہے جو امدادی سامان اور خوراک حاصل کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 118 فلسطینی جاں بحق اور 581 زخمی ہوئے۔ آج صبح کے حملوں میں 73 افراد شہید ہوئے، جن میں 33 امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ہلاکتیں اسرائیل اور امریکا کی حمایت یافتہ متنازع تنظیم "غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن" کے امدادی مراکز پر کیے گئے حملوں کے دوران ہوئیں۔

غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی ہدف عام شہری تھے، خصوصاً وہ افراد جو خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔

جبال المویسی کے علاقے میں قائم ایک خیمہ بستی پر حملے میں 13 افراد شہید ہوئے، جبکہ غزہ شہر کے مغرب میں قائم مصطفیٰ حافظ اسکول، جہاں متاثرہ خاندانوں نے پناہ لی ہوئی تھی، پر کیے گئے حملے میں 16 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

اس کے علاوہ، امریکی سیکیورٹی کنٹریکٹرز نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فورسز نے امداد کے انتظار میں کھڑے بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کی۔

ان مسلسل حملوں نے غزہ میں انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں پہلے ہی خوراک کی شدید قلت، طبی سہولیات کی کمی اور غیر محفوظ حالات کا سامنا ہے۔

Advertisement