Advertisement
پاکستان

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں، مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے ماضی کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تھا، اس وقت ملک میں متحدہ مجلس عمل فعال تھی اور ہم اتحادِ امت کے لیے جیلوں تک گئے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jul 23rd 2025, 8:52 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حکومت نام کی کوئی رٹ موجود نہیں۔

ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام مجلس قائدین کے اجلاس اور "قومی مشاورت" سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دن دیہاڑے دہشت گرد کھلے عام گھوم رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ریاست اپنی ناکامیوں کا بوجھ قوم پر نہ ڈالے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ بدامنی ریاستی اداروں کی نااہلی ہے یا دانستہ غفلت؟ اس صورتحال پر ہمیں جرات مندانہ مؤقف اپنانا ہوگا۔ مولانا کا کہنا تھا کہ مسلح جدوجہد شرعاً ناجائز ہے، اور پاکستان میں دینی مقاصد کے لیے اسلحہ اٹھانے کو ہم حرام قرار دے چکے ہیں۔ ہم آغاز سے ہی آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے ماضی کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تھا، اس وقت ملک میں متحدہ مجلس عمل فعال تھی اور ہم اتحادِ امت کے لیے جیلوں تک گئے۔

سوات سے وزیرستان تک ہونے والے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے آج بھی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ افغانستان گئے تھے، وہ کیسے گئے اور واپس کیوں آئے؟

مزید برآں، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے 26 ویں آئینی ترمیم کے 35 نکات سے حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جس کے بعد یہ 22 نکات تک محدود ہو گئی، اور ہم نے اس میں بھی مزید اہم اقدامات کیے۔

Advertisement
Advertisement