دریائے چناب میں پانی کا بڑا ریلا،جھنگ میں ریواز برج کے قریب دھماکا کر کے شگاف لگادیا گیا
شگاف کے بعد پانی جھنگ چنیوٹ روڈ پر آگیا جس سے سڑک ڈوب گئی


دریائے چناب میں پانی کا بڑا ریلا،جھنگ میں ریواز برج کے قریب دھماکا کر کے شگاف لگا دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق شگاف سے پانی قریبی دیہات میں پھیلے گا اور تریموں ہیڈ ورکس پر دباؤ کم ہوسکے گا۔ شگاف کے بعد پانی جھنگ چنیوٹ روڈ پر آگیا جس سے سڑک ڈوب گئی۔
دوسری جانب سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے کیلئے بند رکھنے پر بھی غور کیا جارہا ہے جبکہ ننکانہ، شیخوپورہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دریائی بیلٹ کے علاقوں کو فوری خالی کرانے کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ اب تک سیلاب سے 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، آبی گزرگاہوں کو خالی کرنا پڑے گا، اگر پانی کی گزرگاہوں کو خالی نہ کیا تو وہی ہوگا جو ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قدرت نے اب ایکشن لے لیا ہے، فلڈ پلین ایکٹ پر عمل کرایا جائے گا، وزیراعلیٰ کے واضح احکامات ہیں کہ پانی کی گزر گاہوں کو فوری خالی کرایا جائے۔موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھے بغیر کوئی بھی ترقیاتی کام کریں گے تو اس میں نقصان اٹھائیں گے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور موسی رضا کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں اس وقت دو لاکھ 11 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، اگلے 10 گھنٹوں میں پانی کے بہاو میں مزید کمی آئے گی۔
لاہور میں ابھی تک کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی، دو ہزار کے قریب شہریوں کو پہلے نکالا گیا تھا، جو لوگ نہیں جاسکے ان کو18ریلیف کیمپس میں ٹھہرایا ہوا ہے، پانچ کیمپس میں ابھی لوگ ہیں انہیں ناشتہ اورکھانا فراہم کیا جارہا ہے۔
نارووال میں بھی پانی کم ہو رہا ہے، ہمارا فوکس اس وقت ریسکیو آپریشن پر ہے، ہماری مختلف اضلاع سےآنیوالی سبزیوں کی سپلائی لائنز تھوڑی متاثر ہوئی ہیں۔راوی میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب سے لاہور کے کئی علاقے متاثر ہوئے ہیں، جہاں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
رنگ روڈ سے ملحقہ بادامی باغ کے علاقے میں بھی دریائے راوی کا سیلابی پانی داخل ہوا، چوہنگ کے مختلف علاقے بھی زیر آب آ گئے ہیں، چوہنگ میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پانی داخل ہونے کے بعد مکینوں نے رات گئے نقل مکانی کر لی۔
منظور گارڈن، برکت کالونی اور مانوال سمیت مختلف علاقوں میں سیلابی پانی آیا، فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد بھی زیر آب گئے، شہری انتظامیہ کی جانب سے مکینوں کی نقل مکانی یقینی بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
شرقپور شریف کے کئی دیہات زیر آب آ چکے ہیں، شکر گڑھ کے کئی علاقوں میں بھی ہر طرف پانی ہی پانی ہے، کروڑوں روپے مالیت کے مویشی لاپتہ ہو گئے ہیں۔
ہائی رسک علاقوں میں لاہور کے علاقے شاہدرہ، کوٹ محبو، جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، دھیر، کوٹ بیگم شامل ہیں۔ضلع شیخوپورہ میں فیض پور، دھمیکے، ڈاکہ، برج عطاری، کوٹ عبدالمالک میں سیلاب کا خطرہ ہے۔
ضلع قصور کے علاقے پھول نگر، رکھ خان کے، نتی خالص، لمبے جگیر، کوٹ سردار، ہنجرائے کلاں، بھتروال کلاں، نوشہرہ گئے کو ہائی رسک قرار دیا گیا ہے۔ضلع خانیوال میں غوث پور، میاں چنوں، امید گڑھ، کوٹ اسلام، عبدالحکیم اور کبیروالہ میں سیلاب متوقع ہے۔
پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے نئی لگنے والی شرط کیا ہے؟
- 15 hours ago
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 3 days ago
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 3 days ago

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 3 days ago
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 4 days ago
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 4 days ago

لاہور: غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی، 78 اہلکار معطل
- 9 hours ago
خاتون فٹبالر سمندر میں اچانک ڈوب گئ، کہاں پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی؟
- 14 hours ago
عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار
- 15 hours ago
پولیس کا جنون، لڑکی نے خودکشی کیوں کی؟
- 15 hours ago
آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ میں معلوماتی و تربیتی سیشنز
- 15 hours ago
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 4 days ago



.jpeg&w=3840&q=75)