Advertisement

یوکرین پر روسی حملہ برسوں کی مغربی اشتعال انگیزی اور نیٹو میں شامل کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے، پیوٹن

یوکرین کی نیٹو میں شمولیت روس کی قومی سلامتی کے لیے ناقابل قبول ہے، اور یہ اقدامات مشرقی یورپ میں کشیدگی کو بڑھاوا دے رہے ہیں،پیوٹن

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Sep 1st 2025, 2:36 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
یوکرین پر روسی حملہ برسوں کی مغربی اشتعال انگیزی اور نیٹو میں شامل کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے، پیوٹن

تیانجن: روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین پر ماسکوکا حملہ برسوںکی مغربی اشتعال انگیزی اور نیٹو میں شامل کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کےمطابق چین کے شہر تیانجن میںہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی ولادیمیر پیوٹن نے نیٹو پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام لگایا اور یہ دعویٰ مسترد کر دیا کہ جنگ روس نے شروع کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بحران روس کے یوکرین پر حملے سے شروع نہیں ہوا، بلکہ یوکرین میں ہونے والی بغاوت کا نتیجہ ہے، جسے مغرب نے سہارا دیا اور بھڑکایا۔

سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے مزید کہا کہ مغرب کی یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی کوششیں یوکرین بحران کی وجوہات میں سے ایک ہے،  یوکرین میں بحران کی بنیادی وجوہات کو حل اور سکیورٹی کا توازن قائم کرنا ضروری ہے۔

 پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس اس اصول پر قائم ہے کہ کوئی ملک دوسرے کے نقصان پر اپنی سلامتی کو یقینی نہیں بنا سکتا۔ 

 صدر پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیاد 2014 میں یوکرین میں ہونے والی بغاوت ہے، جو ان کے بقول مغرب کی پشت پناہی سے ہوئی،انہوں نے کہا، "بغاوت کے بعد اس سیاسی قیادت کو ہٹا دیا گیا جو یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی مخالف تھی۔

روسی صدر نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت روس کی قومی سلامتی کے لیے ناقابل قبول ہے، اور یہ اقدامات مشرقی یورپ میں کشیدگی کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ روس کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب روس اور مغربی ممالک کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور یوکرین کی جنگ عالمی منظرنامے پر اہم سیاسی و عسکری چیلنج بنی ہوئی ہے۔

Advertisement