Advertisement

غزہ: اسرائیل نے 2 سال بعد رفح کراسنگ بارڈر کھول دیا، محدود آمد و رفت کی اجازت

واضح رہے کہ اسرائیل نے مئی 2024 میں غزہ جنگ کے آغاز کے تقریباً 9 ماہ بعد رفح کراسنگ پر کنٹرول سنبھال لیا تھا

GNN Web Desk
شائع شدہ 7 months ago پر Feb 1st 2026, 6:11 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
غزہ: اسرائیل نے 2 سال بعد رفح کراسنگ بارڈر کھول دیا، محدود آمد و رفت کی اجازت

غزہ : اسرائیل نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ کے بعد اتوار کے روز غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ کو دو سال بعد جزوی طور پر دوبارہ کھول دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے اتوار کے روز رفح کراسنگ کو کھول دیا ہے تاہم اس راستے سے صرف غزہ کے شہریوں کی محدود آمد و رفت کی اجازت دی گئی ہے جبکہ امدادی سامان کی ترسیل پر پابندیاں بدستور برقرار ہیں اور صرف محدود مقدار میں سامان داخل ہونے دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس حوالے سےاسرائیلی وزارتِ دفاع کے فلسطین خصوصاً غزہ سے متعلق امور کی نگرانی کے لیے قائم ذیلی ادارے کوگیٹ نے اتوار کو اعلان کیا کہ رفح کراسنگ کو آج صرف شہریوں کی محدود نقل و حرکت کے لیے کھولا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حماس کے زیرانتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تقریباً 200 مریض رفح کراسنگ کھلنے کے بعد علاج کے لیے جانے کے انتظار میں ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک فلسطینی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ تقریباً 40 افراد مصر کی جانب رفح کراسنگ پر پہنچ چکے ہیں، جو غزہ میں داخل ہو کر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے مئی 2024 میں غزہ جنگ کے آغاز کے تقریباً 9 ماہ بعد رفح کراسنگ پر کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

 اس کراسنگ کی بحالی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے پہلے مرحلے کی ایک اہم شرط تھی، جس پر اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی طے پائی تھی۔

Advertisement