پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دیدی،مراسلہ وفاقی حکومت کو ارسال
پرتشدد احتجاج کرنے والے ملک اور عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے،انہوں نے کہا کہ مظاہروں کی آڑ میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا،عظمی بخاری


لاہور: پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کی منظوری دیتے ہوئے ہوئے مراسلہ وفاقی حکومت کو ارسال کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پوری دنیا غزہ جنگ بندی کے معاملے پر پاکستان کے کردار کی معترف ہے لیکن یہاں ایک جماعت نے غزہ کے لیے احتجاج کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کا اعلان اس وقت کیا گیا جب غزہ امن معاہدہ ہو چکا تھا، احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کی گئی اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
صوبائی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ پرتشدد احتجاج کرنے والے ملک اور عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے،انہوں نے کہا کہ مظاہروں کی آڑ میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا، سڑکیں بند کی گئیں، عوام کو یرغمال بنایا گیا اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے گئے، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا پولیس کی گاڑیاں جلانے سے غزہ کا مسئلہ حل ہو گیا، ریاست نے فیصلہ کیا پاکستان ایسے احتجاج اور توڑ پھوڑ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صرف گزشتہ پرتشدد احتجاج میں 1648 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ ایک پولیس انسپکٹر کو 26 گولیاں مار کر شہید کیا گیا،ان کے بقول، یہ سوچنا کہ کسی شخص پر جھوٹا الزام لگا کر اسے قتل کر دینا درست ہے، ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے جس کا سدباب ضروری ہو چکا ہے۔
عظمیٰ بخاری نےمزید کہا کہ مذہب کے نام پر سیاست اور تشدد اب ناقابلِ قبول ہے، ’یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی مذہب کے نام پر کروڑوں کی جائیدادیں بنائے، قیمتی گھڑیاں گھروں سے برآمد ہوں، اور ریاست خاموش تماشائی بنی رہے، ان کا کہنا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال اور نفرت انگیز تقاریر پر بھی قانون حرکت میں آئے گا، اور جھوٹی خبریں یا افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دیدی ہے، ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے سمری وفاقی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کے مراسلہ کے مطابق تنظیم مسلسل ریاستی رٹ کو چیلنج کرتی رہی، ٹی ایل پی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے پہلی شیڈول میں شامل کیا جائے، پابندی کی سفارش انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی شق 11B کے تحت کی گئی۔
چارج شیٹ کے مطابق آئی جی پنجاب کی رپورٹ 15 اکتوبر 2025 کو بھجوائی گئی، سی ٹی ڈی کی رپورٹ 14 اکتوبر 2025 کو تیار کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے نئے اسلحہ لائسنس جاری کرنے پر پابندی عائد کر دی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے محکمہ داخلہ پنجاب کی سفارش پر منظوری دیدی، اسلحہ کی نمائش پر مکمل طور پر پابندی ہے، اب پنجاب میں کوئی اسلحہ لائسنس جاری نہیں ہوگا، پنجاب میں سیاسی یا غیر سیاسی بندے کی سفارش پر اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جس کے پاس غیر قانونی اسلحہ موجود ہے ان سے درخواست ہے وہ ایک ماہ کے اندر اندر اس کو جمع کرا دیں، غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں نے اپنا اسلحہ جمع نہ کرایا تو ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے مقدمات ہوں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پنجاب حکومت مذہبی جماعت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش وفاق سے کرے گی اور مذہبی جماعت کے تمام اثاثے تحویل میں لیے جائیں گے۔
اوپن اے آئی نے اے آئی ماڈلز کی جانب سے اپنی مانیٹرنگ خود ڈس ایبل کرنیکا انکشاف کیا ہے
- 2 days ago

پاکستان میں مہنگائی: آئی ایم ایف کے بعد ورلڈ بینک نے بھی مہنگائی بڑھنے سے خبردار کردیا
- a day ago

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی
- 5 hours ago

بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر
- 6 hours ago

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فلسطینیوں کے حملہ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی
- 3 hours ago

پاکستان اوریورپی یونین کا دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
- a day ago

لاہور:موٹر سائیکل سوار شہری کا اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد، ملزم گرفتار
- 5 hours ago

لاہور میں بسنت کی تاریخوں کا اعلان
- 6 hours ago

ملتان میں یتیم بچےکو کار سے کچلنے والا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
- 2 days ago

بالی وڈ سپر اسٹار امیتابھ بچن نے سوشل میڈیا سے دور ہونے کی وجہ بتادی
- a day ago

پاکستان، ترکیے،قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعتی تعاون کے معاہدے پر دستخط کردیے
- 2 days ago

سہ ملکی سیریز: سری لنکا نے انگلینڈ کوتاریخی شکست دے دی
- 21 hours ago








