Advertisement

چینی صدر سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے محکمہ دفاع کوفوراً جوہری تجربات شروع کرنے کا حکم دے دیا

واضح رہے کہ امریکا نے آخری بار 1992 میں ایٹمی تجربہ کیا تھا، جبکہ روس کا آخری تجربہ 1990 اور چین کا 1996 میں ہوا تھا

GNN Web Desk
شائع شدہ 10 months ago پر Oct 30th 2025, 2:39 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
چینی صدر سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے محکمہ دفاع کوفوراً جوہری تجربات شروع کرنے کا حکم دے دیا

واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے چند گھنٹے قبل ایک ایسا اعلان کردیا جس نے عالمی سطح پر ہلچل مچادی ہے،ٹرمپ نےامریکی محکمہ دفاع (ڈیپارٹمنٹ آف وار) کو فوری طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت دے دی ہے تاکہ امریکا دیگر ایٹمی طاقتوں کے ”برابر“ ہو سکے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا، ”دوسرے ممالک کے ایٹمی تجرباتی پروگراموں کے باعث میں نے محکمہ جنگ(محکمہ دفاع) کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کے ٹیسٹ فوراً شروع کریں۔ یہ عمل فوراً شروع ہوگا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ہیں، روس دوسرے نمبر پر ہے جبکہ چین کافی پیچھے ہے، لیکن پانچ سال کے اندر وہ بھی قریب آجائے گا۔

خیال رہے کہ اامریکی صدر کا یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب گزشتہ دنوں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے “پوسائیڈن“ نامی جوہری توانائی سے چلنے والے سپر ٹارپیڈو کے کامیاب تجربے کا اعلان کیا ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ سمندری لہروں کے ذریعے ساحلی علاقوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے آخری بار 1992 میں ایٹمی تجربہ کیا تھا، جبکہ روس کا آخری تجربہ 1990 اور چین کا 1996 میں ہوا تھا۔ شمالی کوریا نے 2017 میں دنیا کا آخری ایٹمی تجربہ کیا تھا۔

Advertisement