Advertisement
پاکستان

متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور شوہرہادی علی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی

سیکشن 10 کے تحت 10، 10 سال قید اور 3کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی جبکہ سیکشن26 اے کے تحت 2، 2 سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی

GNN Web Desk
شائع شدہ 7 months ago پر Jan 24th 2026, 5:39 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور شوہرہادی علی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے متنازع ٹوئٹس کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنادی۔ 

تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی جانب سے 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا،عدالتی حکم نامے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی کو پیکا ایکٹ کے مختلف سیکشنز کے تحت سزائیں سنائی گئیں۔

عدالت نے دونوں ملزمان کو پیکاایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت 5، 5 سال قید اور  50لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ 

عدالتی فیصلے کے مطابق سیکشن 10 کے تحت 10، 10 سال قید اور 3کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی جبکہ سیکشن26 اے کے تحت 2، 2 سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ 

عدالت نے ایمان مزاری، ہادی علی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید  اور  3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائیں، جبکہ عدالت نے پیکا سیکشن 11 میں دونوں ملزمان کو بری کر دیا۔

کیس میں پراسکیوشن کی جانب سے بیرسٹر فہد، عثمان رانا، بیرسٹر منصور اعظم عدالت میں پیش ہوئے، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے سٹیٹ کونسل تیمور جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے جب کہ پراسکیوشن کی جانب سے کیس میں مجموعی طور پر 5 گواہان پیش کئے گئے۔

عدالتی فیصلے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان کی جانب سے کیے گئے متنازع ٹویٹ قانون کے دائرے میں سنگین جرم کے زمرے میں آتے ہیں، جس پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے واضح کیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ فیصلے کے بعد عدالت کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

اس سے قبل آج کیس کی سماعت کے دوران ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ہم عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتےہیں جس کے بعد انہوں نے سماعت کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ 

واضح رہے گزشتہ روز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے ڈسٹرکٹ کورٹ جاتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

Advertisement