اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی حملے، جو بعض اوقات طالبان حکومت کو براہِ راست نشانہ بناتے ہی

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری لڑائی ساتویں دن میں داخل ہو گئی، اور سرحد کے قریب بسنے والے لوگ شدید گولہ باری اور دھماکوں کے سبب اپنے گھروں سے فرار ہونے پر غور کر رہے ہیں۔
سابقہ اتحادی اب حریف بن چکے ہیں، اور گزشتہ ہفتے پاکستان کے بڑے افغان شہروں پر ہونے والے فضائی حملوں کے بعد دونوں طرف کی فوجیوں کے درمیان یہ کئی برسوں کی سب سے شدید لڑائی سامنے آئی ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی اور بڑھ گئی ہے، جو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد بھی تشویش کا شکار ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی حملے، جو بعض اوقات طالبان حکومت کو براہِ راست نشانہ بناتے ہیں، دہشت گرد گروپوں کو پاکستان میں حملے کرنے کے لیے افغان حمایت ختم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ طالبان نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ کسی دہشت گرد گروپ کی مدد کر رہے ہیں۔
پاکستان کے شمال مغرب کے شہروں اور دیہات میں مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سرحدی فورسز کے درمیان لڑائی شام کے وقت شروع ہوتی ہے، جب خاندان رمضان کے مقدس مہینے میں افطار کے لیے بیٹھتے ہیں، جس سے ان کے گھروں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
لنڈی کوتل کے رہائشی فرید خان شنواری نے رائٹرز کو بتایا کہ ”دن کے وقت مکمل سکوت ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی ہم افطار کی ڈش کے لیے بیٹھتے ہیں، دونوں طرف سے گولہ باری شروع ہو جاتی ہے۔“
”ہم انتہائی مشکل حالات میں روزہ کھولتے ہیں، کیونکہ کبھی نہیں معلوم کہ کب ایک گولا ہمارے گھر کو نشانہ بنا دے۔“
مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں شدید گولہ باری اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں، جس کے باعث کئی خاندان اپنے گھروں سے فرار ہو گئے ہیں۔
افغانستان کی سرحد کے دوسری جانب بھی اسی طرح کی لڑائی اور خاندانوں کے فرار کی خبریں ہیں۔ سیکڑوں افراد کو کھلے میدان میں عارضی خیموں میں منتقل کیا گیا، جبکہ دیگر کے پاس کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ حکام کے مطابق تقریباً 1,500 خاندان اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔
2,600 کلومیٹر (1,615 میل) طویل سرحد پر جاری ایک ہفتے سے لڑائی میں اتار چڑھاؤ رہا ہے، اور دونوں جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے مخالف ملک کو بھاری نقصان پہنچایا اور لڑائی میں علاقے پر قبضہ کیا، تاہم رائٹرز ان دعوؤں کی آزاد تصدیق نہیں کر سکا۔
ترکی نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کو یقین دلایا کہ انقرہ فائر بندی بحال کرنے میں مدد کرے گا، ترک صدر دفتر کے مطابق جبکہ دیگر ممالک جو ثالثی کی پیشکش کر چکے تھے، خلیج میں جاری تنازع سے متاثر ہوئے ہیں۔

محسن نقوی کی ایرانی سفیررضا مقدم سے ملاقات،مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی حل پرزور
- 6 hours ago

وزیر خارجہ کا عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ امن و استحکام اور مذاکرات کےحوالے سے تبادلہ خیال
- 6 hours ago

فیلڈمارشل کا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے حوالے سے صدرٹرمپ سے رابطہ، رائٹرز کا دعویٰ
- 11 hours ago

وزیراعظم شہباز شریف کا یورپی کونسل کے صدر سے ٹیلی فونک رابطہ،مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو
- 5 hours ago

محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکرسے ملاقات، پاک امریکہ تعلقات اور مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 8 hours ago

کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا اچانک ہزاروں روپے سستا ،نئی قیمت کیاہو گئی؟
- 11 hours ago

ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات کل اسلام آباد میں ہونگے،امریکی وفدآج پہنچے گا
- 10 hours ago

ایران کے معاملے میں روس ثالث نہیں لیکن ضرورت پڑنے پر ہم مدد کے لیے تیار ہیں،کریملن
- 5 hours ago

پاکستان مصر مشترکہ فوجی مشق "تھنڈر ٹو" کامیابی سے مکمل،افواج کااعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ
- 8 hours ago

ایران اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا پڑےگا ، اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، صدر ٹرمپ
- 6 hours ago

بنوں: سیکیورٹی فورسزکی کامیاب کارروائی، فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 2 خوارجی جہنم واصل
- 11 hours ago

جاپان میں 7.5 شدت کا زلزلہ،عمارتیں لرز اٹھیں، سونامی کا خطرہ
- 11 hours ago



.jpg&w=3840&q=75)










