Advertisement
پاکستان

وزیراعظم کی پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت

وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی، کفایت شعاری اور بچت کے مختلف اقدامات کے ذریعے عام آدمی کو 129 ارب روپے کا ریلیف دیا،شہباز شریف

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 months ago پر Mar 31st 2026, 8:31 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
وزیراعظم کی پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت کر دی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین، بچت اور کفایت شعاری کے لیے جاری اقدامات کے نفاذ کے حوالےسے اجلاس ہوا۔

اجلاس میں کم آمدنی والے طبقات کو موجودہ صورتحال کے تناظر میں ریلیف پہنچانے کے حوالےسے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، وزیر اعظم کو متعلقہ وزارتوں کو صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں وفاقی حکومت نے کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اہم اقدامات کئے اور آئندہ بھی غریب طبقے کو ریلیف کے لئے اقدامات جاری رہیں گے،وزیراعظم نے کہا کہ تیل کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لئے وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی، کفایت شعاری اور بچت کے مختلف اقدامات کے ذریعے عام آدمی کو 129 ارب روپے کا ریلیف دیا۔

دوران اجلاس وزیر اعظم شہبا زشریف نے کہا کہ وفاقی حکومت کے بروقت فیصلوں کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے، عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد اور سپلائی چین کی نگرانی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے باقاعدگی سے کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ نے شرکت کی۔

وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

 

Advertisement