اپنے اثر و رسوخ کو ایشیا و بحرالکاہل کے خطے تک پھیلانے کی کوششیں نیٹو کو زوال سے نہیں بچا سکیں گی، چینی اخبار
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیٹو سرد جنگ کی پیداوار ہے جس کا مقصد وارسا معاہدہ کی تحلیل اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا تھا

بیجنگ: (اے پی پی): نیٹو کی طرف سے اپنے اثر و رسوخ کو ایشیا و بحرالکاہل کے خطے تک پھیلانے کی کوششیں اس فوجی اتحاد کو زوال سے نہیں بچا سکیں گی۔یہ بات معروف چینی اخبار گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہی گئی۔
چین کی لیاؤننگ یونیورسٹی کے امریکن اینڈ ایسٹ ایشین اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے ڈین لو چاو کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے کے باعث نیٹو کے اندر اختلافات تیزی سے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیٹو سرد جنگ کی پیداوار ہے جس کا مقصد وارسا معاہدہ کی تحلیل اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا تھا ۔
نیٹو کے اندرونی اختلافات نے اس فوجی اتحاد کو ایشیا و بحرالکاہل کے خطے کی طرف توجہ مبذول کرنے پر اکسایا جس کا مقصد اپنی بقا کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک کی پالیسیوں کو امریکا کی نئی انڈوپیسفک پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ کر نا ہے تاہم یہ پالیسی نہ صرف یورپی مفادات کے خلاف ہے بلکہ جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اقوام متحدہ پر مرکوز ہے اور جس میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ اخلاقی اور قانونی اصولوں کی خلاف ورزی کو روا رکھا جاتا ہے۔ لو چائو کے مطابق امریکا دراصل اس فوجی اتحاد کو یورپی یونین پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
مزید برآں، یورپ کو نسبتاً پرسکون رکھنے کے عوض ایشیا پیسیفک خطے میں عدم استحکام پیدا کر کے تناؤ کو مشرق کی طرف منتقل کرنے کی نیٹو کی کوشش بھی کامیاب ہونے کا امکان نہیں ہے۔علاوہ ازیں امریکا نیٹو میں اپنے یورپی اتحادیوں پر ایشیا پیسفک خطے میں تنازعات کی فنڈنگ کے لیے بھی دبائو ڈال سکتا ہے جس سے امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
لو چائو کا کہنا ہے کہ ایشیا پیسفک خطہ عالمی اقتصادی ترقی کو تحریک دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خطہ یورپی معیشتوں سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔
لہٰذا، دنیا کے اس حصے میں عدم استحکام سپلائی چین میں خلل ڈال سکتا ہے اور عالمی منڈی کے اہم حصوں کو متاثر کر سکتا ہے۔نیٹو کی طرف سے جاپان کی حوصلہ افزائی بھی یورپی ممالک کے مفاد میں نہیں کیونکہ وہ ماضی میں جاپان کی فاشزم پر مبنی پالیسیوں کے نتیجے میں جارحیت کا شکار ہوئے تھے۔لو چاو کے مطابق ایشیا پیسیفک خطے کے زیادہ تر ممالک استحکام اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور نیٹو کی خطے میں مداخلت سے ممکنہ طور پر ان کی طرف سے جوابی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
.jpg&w=3840&q=75)
پنجاب حکومت کا مہلک بیماریوں سے بچاؤ کیلئے صوبے بھر میں آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ
- 21 hours ago
نئی آئی سی سی پلیئرز رینکنگ: ون ڈے بیٹرز میں بابراعظم کا چھٹا نمبر
- 2 hours ago

پی ایس ایل:لاہور قلندرز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 9 رنز سے ہرادیا
- a day ago
وزیر خارجہ کی امریکی ناظم الامور نیتالی بیکر سے ملاقات،قیام امن اور جنگ میں توسیع کی تجویز
- a day ago

پاکستان اور ایران کاعلاقائی استحکام کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق
- 3 hours ago

سی ٹی ڈی کی کراچی میں کامیاب کارروائی،کالعدم تنظیم کے متعدد کارندے گرفتار
- 20 hours ago

اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کیلئے ایرانی جواب کا تاحال انتظار ہے،عطا تارڑ
- a day ago

امریکا کے ساتھ مجوزہ مذاکرات میں شرکت کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا،ایران
- 19 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
جنگ بندی میں توسیع نہیں کرنا چاہتا،ایران کے پاس معاہدے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے،ٹرمپ
- a day ago

سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی نمایاں کمی، فی تولہ کتنے کا گیا؟
- a day ago

اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال
- 20 hours ago
مایہ نازمزاحیہ اداکار معین اختر کی آج پندرہویں برسی منائی جا رہی ہے
- 2 hours ago











