جنگ بندی کے باوجو د امریکہ حملے کر کے مذاکرات کے عمل کو پیچیدہ بناہ رہا ہے، ایران
یورپی یونین کو چاہئے کہ جارح قوتوں کو خوش کرنے کے بجائے اُن ممالک کو موردِ الزام ٹھہرانا بند کرے جو غیر قانونی حملوں کا جواب دیتے ہیں ،ترجمان

.jpg&w=3840&q=75)
تہران:ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود امریکا حملے کر کے مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہا ہے، ایران امریکی حملوں کا بھرپورجواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے امریکا پر مذاکراتی عمل کو طول دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن مسلسل اپنے مؤقف میں تبدیلی اور متضاد و مختلف میڈیا پیغامات کے ذریعے اس عمل کو پیچیدہ بنا رہا ہے،مذاکرات یا سفارت کاری بذاتِ خود فریقین کے درمیان اعتماد کی علامت یا اس کا نتیجہ نہیں ہوتے۔
پریس کانفرنس میں اسماعیل بقائی نے بتایا کہ واشنگٹن کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم جنگ بندی کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ اور حملوں کے واقعات جاری ہیں، جن میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ بھی دیکھا گیا ہے، حالیہ واقعہ میں پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کی جانب سے سیرک جزیرے پر حملے کے جواب میں امریکا کے خلاف کارروائی کی۔
دوران پریس کانفرنس اسماعیل بقائی نے لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے ایران کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کسی بھی معاہدے اور جنگ کے خاتمے کا لازمی حصہ ہے، امریکا اور اسرائیل کو دو الگ الگ فریق تصور نہیں کیا جا سکتا۔
یورپی یونین کے حالیہ بیان پر شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا حقِ دفاع کا استعمال کرنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا منافقت ہے، ایران کی جانب سے ہمسایہ مُمالک میں امریکی فوج کی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنانا حقِ دفاع کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ یہ وہی مقامات ہیں جنہیں ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ایکس پر اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین کو قانون کی حکمرانی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اُن اصولوں پر قائم رہنا چاہئے جن کا وہ طویل عرصے سے دعویٰ کرتی آئی ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورپی یونین کو چاہئے کہ جارح قوتوں کو خوش کرنے کے بجائے اُن ممالک کو موردِ الزام ٹھہرانا بند کرے جو غیر قانونی حملوں کا جواب دیتے ہیں اور اپنا حقِ دفاع استعمال کرتے ہیں۔
اپنے بیان میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ ایران کی جانب سے اُن اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بنانا، جو ایران پر غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔
اسماعیل بقائی کا اپنے بیان کے آخر پر کہنا تھا کہ ریاستوں پر یہ واضح قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا اثاثوں کو کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
ملتان میں یومِ دفاع و شہداء کی پروقار تقریب کا انعقاد
- 2 days ago

پی ایس ڈی ایف اور نوپڈپ کا خصوصی افراد کیلئے ہنرمندی کی تربیت کا معاہدہ
- 12 hours ago
بہاولپور: یومِ دفاع و شہداء کی موقع پر پروقار تقریب منعقد کی گئی
- 2 days ago
امیشا پٹیل کا ہاردک پانڈیا سے مبینہ تعلقات کی افواہوں پر سخت ردِعمل
- 18 hours ago
پاکستان کسان اتحاد کےخالد کھوکھر نے گورننس پر خطرے کی گھنٹی بجا دی
- 3 days ago
ایتھنز: ائیرشو کے دوران جنگی طیارہ گرکر تباہ
- 3 days ago

سائرہ پیٹر ستارۂ امتیاز کے لیے منتخب، لاہور میں شاندار خراجِ تحسین
- 15 hours ago
لالی وڈ لیجنڈ شان شاہد رات گئے تماثیل تھیٹر پہنچ گئے
- 12 hours ago
نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے کوئی نہیں روک سکتا: محسن نقوی
- 3 days ago

ملک میں آ ج یوم فضائیہ منایا جارہا ہے
- 15 hours ago

حماد اظہر کی گرفتاری سیاسی انتقام اور ریاستی جبر کا تسلسل ہے، میاں شاہد حسین
- 12 hours ago
گوجرانوالہ میں یومِ دفاع و شہداء کی پروقار تقریب
- 2 days ago



