Advertisement

جنگ بندی کے باوجو د امریکہ حملے کر کے مذاکرات کے عمل کو پیچیدہ بناہ رہا ہے، ایران

یورپی یونین کو چاہئے کہ جارح قوتوں کو خوش کرنے کے بجائے اُن ممالک کو موردِ الزام ٹھہرانا بند کرے جو غیر قانونی حملوں کا جواب دیتے ہیں ،ترجمان

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 months ago پر Jun 1st 2026, 2:40 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
جنگ بندی کے باوجو د امریکہ حملے کر کے مذاکرات کے عمل کو پیچیدہ بناہ رہا ہے، ایران

تہران:ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود امریکا حملے کر کے مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہا ہے، ایران امریکی حملوں کا بھرپورجواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے امریکا پر مذاکراتی عمل کو طول دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن مسلسل اپنے مؤقف میں تبدیلی اور متضاد و مختلف میڈیا پیغامات کے ذریعے اس عمل کو پیچیدہ بنا رہا ہے،مذاکرات یا سفارت کاری بذاتِ خود فریقین کے درمیان اعتماد کی علامت یا اس کا نتیجہ نہیں ہوتے۔

پریس کانفرنس میں اسماعیل بقائی نے بتایا کہ واشنگٹن کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم جنگ بندی کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ اور حملوں کے واقعات جاری ہیں، جن میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ بھی دیکھا گیا ہے، حالیہ واقعہ میں پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کی جانب سے سیرک جزیرے پر حملے کے جواب میں امریکا کے خلاف کارروائی کی۔

دوران پریس کانفرنس اسماعیل بقائی نے لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے ایران کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کسی بھی معاہدے اور جنگ کے خاتمے کا لازمی حصہ ہے، امریکا اور اسرائیل کو دو الگ الگ فریق تصور نہیں کیا جا سکتا۔

یورپی یونین کے حالیہ بیان پر شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا حقِ دفاع کا استعمال کرنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا منافقت ہے، ایران کی جانب سے ہمسایہ مُمالک میں امریکی فوج کی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنانا حقِ دفاع کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ یہ وہی مقامات ہیں جنہیں ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ایکس پر اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین کو قانون کی حکمرانی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اُن اصولوں پر قائم رہنا چاہئے جن کا وہ طویل عرصے سے دعویٰ کرتی آئی ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورپی یونین کو چاہئے کہ جارح قوتوں کو خوش کرنے کے بجائے اُن ممالک کو موردِ الزام ٹھہرانا بند کرے جو غیر قانونی حملوں کا جواب دیتے ہیں اور اپنا حقِ دفاع استعمال کرتے ہیں۔

اپنے بیان میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ ایران کی جانب سے اُن اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بنانا، جو ایران پر غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔

اسماعیل بقائی کا اپنے بیان کے آخر پر کہنا تھا کہ ریاستوں پر یہ واضح قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا اثاثوں کو کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

Advertisement
Advertisement