Advertisement

افغان تاجرطالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور،ہزاروں ٹن اجناس خراب

آلوکی فصل بہت زیادہ ہے اورہر تاجرکی کوشش ہے کہ اسےایران بھیج سکےمگر بارڈر بند ہے،تاجر گاہکوں کے انتظار میں بوریوں پر بیٹھے ہیں اور صورتحال انتہا ئی خراب ہے،تاجر

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 months ago پر May 17th 2026, 3:04 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
افغان تاجرطالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور،ہزاروں ٹن اجناس خراب

کابل: طالبان رجیم کی شدت پسندی اور ناکام پالیسیوں نے افغان معیشت کا جنازہ نکال دیا۔سرحدی بندش نے افغان تاجروں کو دیوالیہ کردیا۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان سے پڑوسی ممالک کیلئے تجارتی بندش کے باعث پکتیکا منڈی میں زرعی اجناس کے ڈھیرلگ گئے۔ اس صورتحال سے پریشان افغان تاجرسراپا احتجاج ہیں۔

اسی طر ح پاک افغان سرحد کےساتھ ساتھ ایرانی بارڈر بھی بند ہے۔نااہل طالبان رجیم تاجروں کومتبادل راستے اور معاشی ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہوچکا ہے۔

سوشل میڈیا پرافغان تاجروں کی معاشی بربادی کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔ ویڈیومیں پکتیکاکا تاجر بتارہا ہے کہ آلوکی فصل بہت زیادہ ہے اورہر تاجرکی کوشش ہے کہ اسےایران بھیج سکے، تاہم ایرانی بارڈر بند ہے۔تاجر گاہکوں کے انتظار میں آلووں کی بوریوں پر بیٹھے ہیں اور صورتحال انتہا ئی خراب ہے۔

دوسری جانب عالمی ماہرین کاکہنا ہے کہ طالبان رجیم کی ناکام پالیسیوں نے تجارتی بندش کے نتیجے میں افغانستان کے کسانوں اور تاجروں کومعاشی تباہی سے دوچار کردیا ہے۔

افغان طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں سے افغانستان میں کاروبار، برآمدات اور روزگار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

Advertisement