Advertisement
پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کی ہانگژو میں مختلف اہم چینی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقاتیں

ملاقوں کے دوران میں قابلِ تجدید توانائی، جدید بیٹری ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں کے انفراسٹرکچر اور دواسازی کے شعبوں میں تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 months ago پر May 24th 2026, 8:17 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
وزیراعظم شہباز شریف کی ہانگژو میں مختلف اہم چینی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقاتیں

ہانگژو: وزیراعظم محمد شہباز شریف، جو اس وقت چین کے سرکاری دورے پر ہیں، نے ہانگژو میں مختلف اہم چینی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقاتیں کیں جن میں قابلِ تجدید توانائی، جدید بیٹری ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں کے انفراسٹرکچر اور دواسازی کے شعبوں میں تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وزیراعظم نے شینگ ہوا نینگ یوان کے جی کمپنی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ایگنس سیو سے ملاقات کی۔ اس موقع پر قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون اور پاکستان میں شمسی توانائی کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

 وزیراعظم نے حکومت کی جانب سے شمسی توانائی کے فروغ کے لیے کیے گئے پالیسی اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کر رہا ہے۔

علاوہ ازاں وزیراعظم نے CATL کے ایگزیکٹو صدر آسکر لوؤ سے بھی ملاقات کی جس میں جدید بیٹری ٹیکنالوجی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور شمسی توانائی سے منسلک منصوبوں میں تعاون پر گفتگو ہوئی۔ فریقین نے پاکستان کو صاف توانائی کی جانب منتقل کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔

اسٹارچارج گروپ کی چیئرپرسن ڈین وے شاؤ کے ساتھ ملاقات میں الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر اور اسمارٹ موبیلیٹی سسٹمز پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ شیوژینگ فارماسیوٹیکل گروپ کے صدر ژن یوان سے ملاقات میں دواسازی، صحت کے شعبے میں تعاون اور پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے طبی شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات زیرِ بحث آئے۔

ملاقاتوں کے دوران پاکستان میں نئی پیداواری فیکٹریوں کے قیام، موجودہ پلانٹس کی توسیع اور سرمایہ کاری میں اضافے کے امکانات پر بھی بات چیت کی گئی۔

 وزیراعظم شہباز شریف نے تمام ملاقاتوں میں پاکستان میں کاروبار میں آسانی کے لیے حکومتی اقدامات اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔

Advertisement
Advertisement