Advertisement

 لبنان پر اسرائیلی حملہ ایران امریکا معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا،عباس عراقچی کا انتباہ

لبنان اور ایران میں جنگوں کا خاتمہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، لبنانی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہے،عباس عراقچی

GNN Web Desk
شائع شدہ a month ago پر Jun 16th 2026, 5:40 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
 لبنان پر اسرائیلی حملہ ایران امریکا معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا،عباس عراقچی کا انتباہ

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اب سے لبنان پر کسی بھی طرح کا اسرائیلی حملہ ایران امریکا معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے غیر ملکی سفارتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا، مفاہمتی یادداشت جمعہ کے روز باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوگی۔

سفارتکاروں سے گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ لبنان اور ایران میں جنگوں کا خاتمہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، لبنان میں اسرائیلی قبضے کا تسلسل ایم او یو کی خلاف ورزی تصور ہوگا، لبنانی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہے۔

گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ اب لبنان پر کسی بھی اسرائیلی حملے کو قبول نہیں کیا جائے گا، امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات دو مراحل میں ہوں گے، مذاکرات کے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز، امریکی بحری ناکہ بندی اور تعمیرِ نو پر بات ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے کے معاملات مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں زیر غور آئیں گے،عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران کے نقطۂ نظر سے اس معاہدے کا ایک فریق ایران اور حزب اللہ، جبکہ دوسرا فریق امریکہ اور اسرائیل ہیں۔

خیال رہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں اپنے فوجیوں کے قریب آنے والے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ لبنان کی حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی افواج پر میزائل اور ڈرون سے حملے کیے ہیں۔

Advertisement
Advertisement