Advertisement

اقوام متحدہ میں افغان مندوب نے طالبان رجیم کے حالیہ اقدامات پر سوالات اٹھا دیے

مستقل مندوب نے کہا کہ افغان عوام نہ صرف طالبان کی سخت پالیسیوں سےتنگ ہیں بلکہ کچھ علاقوں میں رجیم کیخلاف کھل کراحتجاج بھی کررہےہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 months ago پر Jun 20th 2026, 3:01 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اقوام متحدہ میں افغان مندوب نے طالبان رجیم کے حالیہ اقدامات پر سوالات اٹھا دیے

جنیوا:اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل مندوب نصیر احمد اندیشہ نے طالبان رجیم کے حالیہ اقدامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں افغانستان کے سرکاری قوانین کا درجہ دینے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

افغانستان کےسفیرونمائندہ برائےاقوام متحدہ نصیراحمد اندیشہ نےکہا کہ طالبان رجیم کےاحکامات کو افغانستان کےسرکاری قوانین یاعوام کی مرضی اوررائےکی نمائندگی کےطورپرنہیں دیکھا جاناچاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کےعوام طالبان رجیم کےفیصلوں کی حمایت نہیں کرتےاوریہ پالیسیاں عوامی خواہشات کوبھی ظاہرنہیں کرتیں،انہوں نے کہا کہ افغان عوام نہ صرف طالبان کی سخت پالیسیوں سےتنگ ہیں بلکہ کچھ علاقوں میں رجیم کیخلاف کھل کراحتجاج بھی کررہےہیں۔

ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ میں افغان مندوب کایہ بیان اس بات کاواضح ثبوت ہےکہ طالبان کی بین الاقوامی سطح پرقانونی حیثیت تسلیم کروانےکی کوششیں بری طرح ناکام ہورہی ہیں۔

افغان طالبان رجیم کےفیصلےعوامی خواہشات کےبجائےصرف ان کی مخصوص نظریاتی اورپرانی سوچ کوظاہر کرتےہیں۔

Advertisement
Advertisement