1900 کے بعد وینزویلا کے شدید ترین زلزلے نے امدادی کارکنوں اور مقامی شہریوں کو رات کی تاریکی میں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش پر مجبور کر دیا۔ امدادی ٹیمیں تباہ شدہ رہائشی عمارتوں کے کھنڈرات میں زندہ بچ جانے والوں کو ڈھونڈنے اور ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے میں مصروف رہیں

:وینزویلا میں ایک صدی سے زائد عرصے کے دوران بدھ کے روز یکے بعد دیگرے آئے زلزلے کے دو طاقتور ترین جھٹکوں کے نتیجے میں کم از کم 164 افراد ہلاک اور 970 سے زائد زخمی ہو گئے، جبکہ دارالحکومت کاراکس کے قریب متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ متاثرہ علاقوں میں جمعرات کو بھی لاپتا افراد کی تلاش جاری رہی۔
1900 کے بعد وینزویلا کے شدید ترین زلزلے نے امدادی کارکنوں اور مقامی شہریوں کو رات کی تاریکی میں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش پر مجبور کر دیا۔ امدادی ٹیمیں تباہ شدہ رہائشی عمارتوں کے کھنڈرات میں زندہ بچ جانے والوں کو ڈھونڈنے اور ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے میں مصروف رہیں۔
امریکا کے جیولوجیکل سروے (یوایس جی ایس) کے مطابق بدھ کی شام دارالحکومت کے مغرب میں 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے آئے، جس کے بعد فرانس، اسپین اور امریکا نے فوری طور پر امدادی ٹیمیں بھیجنے کی پیشکش کی۔
ہلاکتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے مطابق اب تک کم از کم 164 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 970 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراکس کے شمال میں واقع لا گوائیرا ریاست سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔
لا گوائیرا کے ساحلی شہر کاتیا لا مار میں منہدم ہونے والی ایک عمارت کے سامنے کھڑے 49 سالہ لیری روخاس نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہمارے پاس اب کچھ نہیں بچا، نہ ہمت ہے اور نہ طاقت کہ اندر جا سکیں، ذرا تصور کریں کہ میرا پورا خاندان اندر پھنسا ہوا ہے۔‘‘
ساحلی شہر میں بجلی کی فراہمی معطل رہی جبکہ متعدد رہائشیوں نے رات سڑکوں پر گزاری یا اپنے لاپتا عزیزوں کی تلاش میں سرگرداں رہے۔
7.5 شدت کا زلزلہ 29 اکتوبر 1900 کے بعد وینزویلا کا سب سے طاقتور زلزلہ تھا، جب سمندر میں آنے والے 7.7 شدت کے جھٹکوں نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
’’اندر لوگ زندہ ہیں مگر کوئی انہیں بچانے نہیں آ رہا‘‘
عینی شاہدین کے مطابق زلزلے کے بعد متعدد رہائشی عمارتوں میں گہری دراڑیں پڑ گئیں اور کئی عمارتوں کی دیواریں گر گئیں، جبکہ درجنوں عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
ایک خاتون، جو اپنی بیٹی کی خبر کی منتظر تھیں اور جس کی بیٹی 12 منزلہ منہدم عمارت کے ملبے تلے دبی ہوئی تھی، نے کہا: ’’اندر لوگ زندہ ہیں لیکن انہیں بچانے کوئی نہیں آ رہا۔‘‘
فرانس نے 85 امدادی کارکن بھیجنے کا اعلان کیا جبکہ اسپین نے 54 فوجی ریسکیو اہلکار روانہ کرنے کا وعدہ کیا۔ چین، بھارت، برازیل اور امریکا سمیت متعدد ممالک نے بھی امداد کی پیشکش کی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن فوری طور پر تلاش و بچاؤ کی ٹیمیں، طبی وسائل اور انسانی امداد وینزویلا روانہ کر رہا ہے۔
یو ایس جی ایس کے مطابق پہلا زلزلہ 22:04 گرین وچ وقت پر ساحلی قصبے مورون کے مغرب میں 21 کلومیٹر دور آیا۔ ایک منٹ سے بھی کم وقت بعد تقریباً 45 کلومیٹر فاصلے پر 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا۔
ادارے نے وضاحت کی کہ یہ دراصل ’’ڈبلٹ‘‘ نوعیت کا زلزلہ تھا، جس میں 7.5 شدت کے مرکزی زلزلے سے 39 سیکنڈ قبل 7.2 شدت کا ابتدائی جھٹکا محسوس کیا گیا۔
وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو نے شہریوں سے گھروں سے نکل جانے کی اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر کئی عمارتوں کی گیس سپلائی منقطع کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’کئی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ گیس کے باعث کوئی مزید حادثہ پیش آئے۔‘‘
کراکس کے قریب واقع مائیکیتیا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث بند کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں ہوائی اڈے کی تباہ حال عمارتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
زلزلوں نے دارالحکومت میں خوف و ہراس پھیلا دیا اور ہزاروں افراد گھروں اور دفاتر سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔
54 سالہ بینک ملازم اوڈالس ایسکالونا نے بتایا، ’’سیڑھیاں اپنی جگہ سے ہٹ گئیں، پوری دیوار میں دراڑ پڑ گئی، چھت سے چیزیں گرنے لگیں، منظر انتہائی خوفناک تھا۔‘‘
اے ایف پی کے ایک صحافی نے دارالحکومت کے علاقے التامیرا میں 22 منزلہ عمارت کو مکمل طور پر تباہ شدہ دیکھا، جہاں لوگ اپنے عزیزوں کے نام پکار رہے تھے جبکہ رضاکار ملبے پر چڑھ کر تلاش میں مصروف تھے۔
ایک رضاکار نے آواز لگائی، ’’ہمیں ٹارچوں کی ضرورت ہے۔‘‘
’’ہم باہر نہیں نکل سکے‘‘
زلزلے بالترتیب 22 اور 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آئے۔
کاراکس کے ایک شاپنگ سینٹر میں بھی شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ دکاندار ہائیدی رومیریو نے بتایا، ’’یہ ناقابل یقین تھا، مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ جھٹکے کتنی دیر جاری رہے۔‘‘
42 سالہ رومیریو نے کہا، ’’ہمیں ہنگامی سیڑھیوں کے ذریعے باہر نکالا گیا۔‘‘
69 سالہ کارمین گویدیز اپنی بیمار بہن کے ساتھ گھر میں موجود تھیں جب جھٹکے محسوس ہوئے۔
انہوں نے بتایا، ’’زلزلے کی شدت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ میں نے کھڑکیوں کو ہلتے دیکھا اور پھر پورا گھر لرزنے لگا۔‘‘
ان کے مطابق وہ اپنی بہن اور ایک پڑوسی کے ساتھ ایک کونے میں دبک گئیں۔ ’’ہم باہر نہیں نکل سکے، ہمارے پڑوسی اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں۔‘‘
وزیر داخلہ کے مطابق تروخیو، کارابوبو، میرانڈا اور لا گوائیرا ریاستیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر پیش
- 2 دن قبل
وزیرِ دفاع کی پاکستان تحریک انصاف کو میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنے کی دعوت
- ایک دن قبل

نئے تعینات ہونے والے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب سالک جلال کا اصلاحاتی مشن، جیلوں کے اچانک دوروں کا آغاز
- ایک دن قبل
امریکہ نے ایرانی فٹ بال ٹیم پر لگائی گئی سفری پابندیاں نرم کر دیں
- ایک دن قبل
پاکستانی قیادت کی امن کوششوں سے عالمی جنگ بندی ممکن ہوئی، طاہر اشرفی
- 18 گھنٹے قبل

پرواز کارڈ کے تحت 135 ہنر مند نوجوان سعودی عرب روانہ، وزیراعلیٰ پنجاب نے پرواز کارڈ اور بلاسود قرضے تقسیم کیے
- ایک دن قبل
امیرِ قطر کی پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو مبارکباد
- ایک دن قبل
ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل، بعد ازاں دہلی واپس روانہ
- 17 گھنٹے قبل
پی آئی بی ایف کی جانب سے پاکستان۔ایران تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے چھ نکاتی ایجنڈا ایرانی سفیر کو پیش
- ایک دن قبل

نو محرم الحرام مذہبی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے، یوم عاشور کل عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا
- 2 گھنٹے قبل

ایرانی صدر کی علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کی تعریف
- 2 دن قبل

تعبیر فاؤنڈیشن اور کِٹاس کالج کے درمیان مستحق اور ذہین طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف کی فراہمی کا معاہدہ
- 2 دن قبل










