Advertisement
پاکستان

عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کی ہدایت پر 6.4 ارب روپے دینے سے انکار

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ  بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کرائے جانے پر اضافی رقم کی مفاہمتی یادداشت پردستخط نہیں کیے، مالی سال 27-2026 کے صوبائی بجٹ میں وفاقی گرانٹ کی اضافی رقم شامل نہیں کی گئی

GNN Web Desk
شائع شدہ an hour ago پر Aug 15th 2026, 9:49 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کی ہدایت پر 6.4 ارب روپے دینے سے انکار

ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق کی ہدایت پر وفاقی مالیاتی منتقلی میں 6.4  ارب  روپےکی کٹوتی سے انکار کردیا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق  وفاق نے بجٹ سے قبل خیبرپختونخوا سے اضافی رقم کا تقاضہ کیا تھا،  ایف بی آرکا 15،260 ارب روپےکا ہدف حاصل ہونے پر خیبرپختونخوا کا حصہ 175 ارب روپے بنتا تھا، اضافی رقم کی فراہمی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی اجازت سے مشروط کیا تھا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہےکہ ضم اضلاع کو 11ویں قومی مالیاتی کمیشن میں جائز حصہ دینا بھی ہماری شرط تھی، ضم اضلاع کا حصہ دینےکی شرط وفاق نے تسلیم کیں اور این ای سی کی کارروائی کا حصہ بنا یا، 6 ماہ میں حصہ نہ ملنے پر7 ویں این ایف سی کے تحت سمری اور  آرڈیننس کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ  بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کرائے جانے پر اضافی رقم کی مفاہمتی یادداشت پردستخط نہیں کیے، مالی سال 27-2026 کے صوبائی بجٹ میں وفاقی گرانٹ کی اضافی رقم شامل نہیں کی گئی۔

سہیل آفریدی کے مطابق  5 اگست کو  وزارت خزانہ نے خیبرپختونخوا کو  واجب الادا 6.4 ارب روپےکی براہ راست کٹوتی کی تجویز دی،خیبرپختونخوا حکومت نے6.4 ارب روپےکی مجوزہ کٹوتی کی نہ منظوری دی نہ اتفاق کیا،  محکمہ خزانہ نے13 اگست کےخط میں مجوزہ کٹوتی پر عدم رضامندی واضح کردی۔

ان کا کہنا ہےکہ یہ معاملہ محض سیاسی اختلاف نہیں، صوبےکے آئینی اور مالیاتی حق کا معاملہ ہے، آئین کا آرٹیکل 164 وفاق کو صوبےکی واجب الادا رقوم میں یکطرفہ کٹوتی کا اختیار نہیں دیتا،  کٹوتی کے  لیے واضح آئینی یا قانونی بنیاد اور صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری ہے۔

سہیل آفریدی کے مطابق مشیرخزانہ مزمل اسلم نے اکاؤنٹنٹ جنرل کے پی کے متعلقہ افسران سے فوری ملاقات کی، صوبے کی رضامندی کے بغیر کٹوتی نہ کرنےکی تحریری ہدایات جاری کی گئیں،  اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کو بھی صوبائی حکومت کی واضح رضامندی کے بغیرکوئی لین دین درج یا نافذ نہ کرنےکی ہدایت کی۔

Advertisement
Advertisement