وزیر اعظم عمران خان کا ترک میڈیا 'ٹی آر ٹی ورلڈ' کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ہماری حکومت کی تمام پڑوسی ممالک سے مشاورت جاری ہے کہ طالبان کی عبوری حکومت کو کب تسلیم کیا جائے۔


تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم امن کیلئے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے ، طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق ہمسایہ ممالک سے بات چیت جاری ہے، ہمیشہ کہا افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے، افغانستان کے خیر خواہ ہونے کی بدولت ہم چاہتے ہیں کہ وہاں استحکام اور شمولیتی حکومت ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امریکا طالبان کی حکومت کو کب تسلیم کرے گا؟۔ انہوں نے کہا کہ جلد یا بدیر امریکا کو طالبان کی حکومت تسلیم کرنی ہوگی، ان کے سینیٹ میں جو سماعت ہوئی، ان کے میڈیا میں دیکھیں، امریکا صدمے اور تذبذب کا شکار ہے۔ غصہ اترا تو امریکہ منطقی طور پر سوچے گا کہ کس وجہ سے ایک بڑی افغان فوج نے ہتھیار ڈالے ۔
وزیر اعظم کاکہنا تھا کہ امریکا 20 سال کے بعد طالبان کی حکومت کے آنے سے شدید حیرت کا شکار ہے اور اب وہ قربانی کا بکرا ڈھونڈ رہا ہے جبکہ امریکی صدر جوبائیڈن کو تنقید کا نشانہ بنانا افسوس کی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ (جوبائیڈن) کیا کرسکتے تھے، انخلا کی تاریخ جب بھی دی گئی ہوتی ایسا ہی ہوتا جیسا آپ نے دیکھا، وہ جوبائیڈن سمیت سبھی کے لیے حیران کن تھا۔
انہوں نے کہا کہ طویل مدت کے لیے تو شاید طالبان اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں گے لیکن اگر انہیں فوری طور پر امداد فراہم نہیں کی گئی تو خطرہ ہے کہ وہاں تشکیل پانے والی عبوری حکومت گر جائے گی جس کے نتیجے میں افرا تفری پیدا ہوگی اور انسانی بحران جنم لے گا۔
افغان حکومت اپنے بجٹ کے لیے 75 فیصد تک بیرونی امدا پر انحصار کرتی تھی ، جیسے ہی بیرونی امداد کا سلسلہ بند ہوتا ہے تو لوگوں کو خدشہ ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد بیرونی امداد ختم ہوجائے گی۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی تاریخ کا قریبی تعلق ہے، افغان سرحد کے دونوں اطراف پشتون قبائل قیام پذیر ہیں، پشتونوں میں مذہبی ہی نہیں، قومیت کی سطح پر بھی گہرا تعلق ہے اور افغانستان نے کبھی بیرونی طاقتوں کو قبول نہیں کیا۔ 2011 میں جنرل کیانی نے صدر اوباما کو واضح کیا تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ ہمیں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ،اجتماعی نقصان کی وجہ سے افغانستان میں امریکہ کیخلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے ، پاکستان کو امریکہ ڈرون حملوں سے ہونے والےنقصان کا ردعمل برداشت کرنا پڑا ۔
ان کاکہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ گروپ امن کیلئے بات چیت کرنا چاہتے ہیں ، کالعدم ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے کیلئے مذاکرات ہو سکتے ہیں کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہیں ، گزشتہ 40دنوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا تاہم ہم اس سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔

پاکستان کا سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور خوشحالی کے لیے حمایت کا اعادہ
- 2 دن قبل

ملک میں سونے فی تولہ قیمت میں معمولی کمی
- 3 دن قبل

ماہ نور صفدر کے نکاح کی تقریب آج ہوگی، دلہا کون ہے؟
- 12 گھنٹے قبل

پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی مذمت
- 10 گھنٹے قبل

بیرونِ ملک سفر کے لیے نادرا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ لازمی، تاریخ کا اعلان
- 9 گھنٹے قبل
کرکٹرزامام الحق اور محمد رضوان کےموبائل فونز ظبط، وجہ سامنے آگئی
- 3 دن قبل

پاکستان کے یومِ دفاع و شہداء کی مناسبت سے تھائی لینڈ میں تقریب کا انعقاد
- 14 گھنٹے قبل

کراچی: اسکول کی خستہ حال دیوارگرنے سے 5 افراد جاں بحق
- ایک دن قبل

پاکستان کا یمن میں کشیدگی کم کرنے کیلئے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم
- ایک دن قبل

خریداروں کے لئے خوشخبری: ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی
- 2 دن قبل

مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک جہان فانی سے کوچ فرماگئے
- 12 گھنٹے قبل
پیراگلائیڈر آصف محمود چترال میں پیرا گلائیڈنگ کے دوران جان سے گئے
- ایک دن قبل
