جی این این سوشل

جی این این میں ویڈیو ڈیسک آپ کو روزانہ کی تازہ ترین سرخیاں ، شوز ، پروگرام ، ایونٹس اور بہت کچھ فراہم کرے گا جب آپ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔

علاقائی

این ٹی ڈی سی کا 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ پر وضاحتی بیان

حیسکو ریجن میں 12گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی وجہ صرف این ٹی ڈی سی کو قرار دینا درست نہیں:ترجمان 

Published by Kamran Jan

پر شائع ہوا

کی طرف سے

لاہور:نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے ترجمان نے 22 جولائی کو حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے علاقوں میں بجلی کی حالیہ طویل بندش کے بارے میں وضاحت کی ہے۔

ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق حیسکو ریجن میں اضافی لوڈ مینجمنٹ کے اقدامات نیپرا گرڈ کوڈ 2023 کے مطابق کیے گئے۔ یہ اقدامات 21 جولائی بروز ہفتہ اور 22 جولائی بروز اتوار کی درمیانی شب پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر کیے گئے۔

ترجمان این ٹی ڈی سی نے زور دے کر کہا کہ 12 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کوصرف این ٹی ڈی سی سے منسوب کرنے کا دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی تھا اور یہ صورتحال کی درست وضاحت نہیں تھی۔

ترجمان نے کہا کہ ان اقدامات کی بنیادی وجہ گھارو اور جھمپیر ونڈ کلسٹرز میں واقع 36 ونڈ فارمز سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی تھی۔ یہ ونڈ فارمز 1,845 میگاواٹ کی مشترکہ پیداواری استعداد کے ساتھ این ٹی ڈی سی کے 500 کے وی جامشورو گرڈ سٹیشن کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔ ہوا کی غیر معمولی طور پر کم رفتار کے نتیجے میں ونڈ فارمز سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں جامشورو گرڈ سٹیشن کے ٹرانسفارمرز پر بہت زیادہ بوجھ پڑا۔

اہم آلات کی حفاظت کی کوشش میں این ٹی ڈی سی نے اضافی لوڈ شیڈنگ کیلئے حیسکو حکام کے ساتھ رابطہ کیا تاہم اتوار کی صبح تک ہوا کی رفتار معمول پر آ گئی جس کے بعد بجلی کی پیداوار بڑھنے پر حیسکو کے علاقوںمیں اضافی لوڈ شیڈنگ کی ضرورت نہیں رہی۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا اصل دورانیہ 12 گھنٹے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھا۔ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق 4 گھنٹے تک تقریباً 75 میگاواٹ اور 6 گھنٹے تک 142 میگاواٹ کا شارٹ فال رہا جس کے نتیجے میں حیسکو کی جانب سے مختلف 11 کے وی فیڈرز پر اوسطاً ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ایف پی سی سی آئی کا آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

آئی پی پی معاہدوں کے تحت، پاکستان اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں، گوہر اعجاز

Published by Nouman Haider

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سابق نگران وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی نے آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں ںے کہا ہے کہ چیمبرز آف کامرس نے آئی پی پیز کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ ہے، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) پاکستان کی کاروباری برادری کی اعلیٰ نمائندہ ہے، ایف پی سی سی آئی معزز سپریم کورٹ میں باضاطہ طور پر پٹیشن دائر کرے گی کہ وہ اس ناقابل برداشت صورتحال میں مداخلت کرے جو ہر پاکستانی کے حق زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ آئی پی پی معاہدوں کے تحت، پاکستان اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں، مہنگی بجلی تمام پاکستانیوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے, بجلی کی زیادہ قیمت شہریوں کو غربت میں دھکیل رہی ہے اور کاروباروں کو دیوالیہ کر رہی ہے.

ان کا کہنا تھا کہ 2020ء میں سابقہ عبوری توانائی کے وزیر محمد علی نے ایک تفصیلی رپورٹ لکھی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومتی نااہلی اور آئی پی پی کی غلط بیانیوں کی وجہ سے سینکڑوں اربوں کا نقصان ہو رہا ہے، وہ رپورٹ آج تک مکمل طور پر نافذ نہیں کی گئی، کیوں؟ حکومت نے اس رپورٹ میں مطالبہ کردہ فرانزک آڈٹ کا حکم کیوں نہیں دیا؟،

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ 240 ملین پاکستانیوں کی بقا زیادہ اہم ہے یا 40 خاندانوں کے لیے یقینی منافع، ہمارا ملک تمام وسائل سے مالا مال ہے ہمیں خوشحالی کے لیے صرف بدانتظامی کا خاتمہ چاہیے، بجلی پاکستان کی صنعتوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے اور یہ براہ راست 240 ملین لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔

سابق وزیر تجارت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان چند برس میں ایک ہی غلطیاں دوبارہ نہیں برداشت کر سکتا صرف اس لیے کہ نئے ’’سرمایہ کاروں‘‘ کا ایک گروپ کچھ نہ کرنے کے عوض پیسہ کمانا چاہتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو، جسٹس طارق محمود

وکلا اچھی معاونت کریں تو ججز کو بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے خطاب

Published by Kamran Jan

پر شائع ہوا

کی طرف سے

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا ہے کہ میں روز قرآن پاک اور درود شریف پڑھ کر عدالت میں بیٹھتا ہوں اور جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو۔

اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ وکلا اچھی معاونت کریں تو ججز کو بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے، وکیل اگر تیاری کے ساتھ پیش ہوں تو خوشی ہوتی ہے،  جج بھی انسان ہیں، ہم ہرفیصلہ یہ سوچ کر لکھتے ہیں کہ یہ ہمارا ایگزامنیشن پیپر ہے، ہمارا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2021 کے واقعہ کی وجہ سے بار اور بینچ میں کافی خلا  آگیا تھا، وکلا کو اپنےکیسز کی پیروی کےلیے مکمل تیاری کے ساتھ آنا چاہیے اور ججز کو بھی نوجوان وکلا کی اپنے بچوں کی طرح اصلاح کرنی چاہیے۔

جسٹس طارق محمود کا کہنا تھا کہ ایک نیا ٹرینڈ تھا کہ ملک بھر میں پرچے ہوجاتے تھے، میں نےفیصلہ دیاکہ ایک وقوعہ پر متعدد ایف آئی آرز درج نہیں ہوسکتیں، ہم نے آئین اور قانون کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں روز قرآن پاک اور درود شریف پڑھ کر عدالت میں بیٹھتا ہوں اور جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll