Advertisement
پاکستان

پاکستان میں ٹک ٹاک بند، پابندی کے خاتمے کیلئے بڑی شرط عائد کردی گئی

پشاور :پاکستان میں سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی گئی ،پشاورہائیکورٹ نے ملک میں ٹک ٹاک کےعہدیداروں کی جانب سے غیر اخلاقی مواد روکنے کےلیے تعاون کرنے تک پابندی عائد رکھنے کا حکم جاری کردیا ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Mar 12th 2021, 7:52 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

تفصیلات کے مطابق پشاورہائیکورٹ  میں   ٹک ٹاک کے خلاف دائر درخواست پر چیف جسٹس قیصررشید خان نے سماعت  کی ،  ڈی جی پی ٹی اے،  ڈپٹی اٹارنی جنرل اور درخواست گزار وکیل نازش مظفر اور سارہ علی عدالت میں پیش ہوئے ۔درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ٹک ٹاک کے بارے میں جو رپورٹ مل رہی ہے وہ افسوسناک ہے۔ ٹک ٹاک سے سب سے زیادہ نوجوان متاثر ہورہے ہیں،   جو ویڈیوز  آپ لوڈ ہوتی ہے وہ ہمارے معاشرے کو قابل قبول نہیں ہے۔

 چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ڈی جی پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ ٹک ٹاک کا آفس کہا ں پر ہے جہاں سے یہ کنٹرول ہوتا ہے۔جس پر ڈی جی پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ  ٹک ٹاک کا ہیڈ آفس سنگاپور میں ہے،اسے دبئی سے کنٹرول کیا جارہا ہے۔ چیف جسٹس کا ڈی جی پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ ٹک ٹاک ایپلیکیشن بند کرنے سے ان کو  (کمپنی ) نقصان ہوگا؟ جس پر ڈائریکٹر جنرل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی  نے جواب  دیا کہ جی ان کو نقصان ہوگا۔ ہم نے ٹک ٹاک کے عہدہ داروں کو  مواد کے سلسلسے میں درخواست دے رکھی  ہے لیکن ابھی تک مثبت جواب نہیں آیا۔ جس پر چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیے کہ جب تک ٹک ٹاک کے عہدیدار پی ٹی اے کی درخواست پر عمل نہیں کرتے، غیر اخلاقی مواد روکنے کے لیے تعاون نہیں کرتے اس وقت تک ٹک ٹاک کو بند کیا جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے 9 اکتوبر2020 کو فحش مواد کو نہ ہٹائے جانے پر ٹک ٹاک کو ملک بھر میں بند کردیا تھا۔ اس سے قبل پی ٹی اے نے ستمبر میں ٹک ٹاک انتظامیہ کو متنازع اور نامناسب مواد کو ہٹانے سے متعلق احکامات جاری کرتی آ رہی تھی اور ایک موقع پر پی ٹی اے نے چند ایپس کو بند بھی کردیا تھا۔

علاوہ ازیں گزشتہ چند ماہ میں پی ٹی اے نے متعدد بار ایپ انتظامیہ کو غیر اخلاقی ویڈیوز ہٹانے کے نوٹسز بھی جاری کیے تھے۔

 دوسری جانب پی ٹی اے کی جانب سے نوٹسز جاری ہونے کے بعد ٹک ٹاک نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پاکستان سے درجنوں متنازع ویڈیوز کو ہٹادیا ہے جبکہ وہ اخلاقی اور اچھا مواد تیار کرنے کے لیے حکومت اور مواد تیار کرنے والے افراد کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔علاوہ ازیں ٹک ٹاک کو بند کرنے کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں عام شہری کی جانب سے درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔جولائی میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ملک میں اس اپیلی کیشن کے استعمال کرنے والے 10 سے زائد افراد کی موت بھی واقع ہوچکی ہے۔

Advertisement
Advertisement