ہم ارکان کو ایوان میں لائیں گے اور 172 سے زائد ووٹ لیں گے،اپوزیشن رہنماؤں کا بڑا دعویٰ
اسلام آباد:اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ و جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پیپلزپارٹی کے رہنما آصف زرداری اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی مشترکہ پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ہم ارکان کو ایوان میں لائیں گے اور 172 سے زائد ووٹ لیں گے۔

پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھاکہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے پونے 4 سال معیشت کی جو تباہی کی اس کی نظیر نہیں ملتی، کھربوں کے قرضوں کے باوجود ملک میں ایک اینٹ نہیں لگائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ قرضے لے کر ہماری نسلوں کو بھی گروی رکھ دیا گیا ہے، ہمارے اچھے برے وقت میں ساتھ دینے والوں کو ناراض کردیا گیا، چین کے سی پیک منصوبے پر اپنے اپوزیشن دور میں تنقید کی، چین جیسے دوست کو ناراض کرنا کہاں کی خارجہ پالیسی ہے؟ جو زبان استعمال کی گئی اس کا ایک لفظ بھی یہاں کہنا زیب نہیں دیتا۔
ان کا کہنا تھاکہ میلسی میں تقریر کرکے خواہ مخواہ یورپی یونین کو ناراض کیا گیا۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی میں جن کے ضمیر جاگ چکے انہیں بھی کہیں گے کہ آگے بڑھیں اور ہمارا ساتھ دیں، ہمارا حق ہے اور فرض ہے کہ سب سے رابطہ قائم کریں۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ و جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ سال 2018 کےانتخابات کے بعد ایک ہفتے میں متفقہ مؤقف بنا لیا تھا کہ 2018 کےانتخابات میں عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔
ان کا کہنا تھاکہ مارچ اس جدوجہد کا تسلسل ہے جس نے قوم میں شعور بیدار کیا، ہم اپنے مؤقف کے حوالے سے قوم کے سامنے شرمندہ نہیں، ہم نے تمہاری اس وقت کی گفتگو کوبھی نمائش سمجھاتھا، دھوکا دھوکا ہی ہوتا ہے، امریکا کی مخالفت میں بات ہوررہی ہے ، یورپ سے متعلق باتیں ہورہی ہیں، ہم جانتے ہیں ، ہم تمہاری اصلیت کو جانتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبول نعروں کا سہارا مت لو، آپ جلسے میں ہمیں گالیاں دے رہے ہیں لیکن ملکی مفاد پر اپوزیشن متحد ہے، عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوگی، قوم کو نجات دلا کر رہیں گے۔
سابق صدر آصف زرداری کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اپوزیشن نے سوچا اب نہیں تو کبھی نہیں، تحریک انصاف کے اپنے دوست بھی ان سے بیزار ہیں، ان سب کو حلقوں ميں واپس جانا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھاکہ ہم ارکان کو ایوان میں لائیں گے اور 172 سے زائد ووٹ لیں گے۔
ان کا کہنا تھاکہ ہم نے ماضی میں بھی تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کیا، میں نے اس صدر کے پاس وہ اختیار ہی نہیں چھوڑا کہ اسمبلی تحلیل کردے۔

قومی کرکٹر پر دھوکا دہی اور ہراسانی کے الزامات، اداکارہ نے خاموشی توڑ دی
- 2 دن قبل
حکومت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کامیاب، مظفر آباد کی طرف مارچ مؤخر
- ایک دن قبل
مشہوربھارتی اداکار کی تیسری اہلیہ کا مذہب سامنے آگیا
- 13 گھنٹے قبل
.jpeg&w=3840&q=75)
بہترین کارکردگی پر شیخوپورہ پولیس کے سات افسران کو اعزازات سے نوازا گیا
- 2 دن قبل

پی ایس ڈی ایف کا چینی اداروں سے عالمی معیار کی فنی تربیت کا معاہدہ
- ایک دن قبل

سابق وزیراعظم کے قافلے پر حملہ، قریبی ساتھی جان کی بازی ہار گیا
- 11 گھنٹے قبل

حکومت نے آج سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا فارمولہ پیش کر دیا
- 10 گھنٹے قبل
فلم ’ستلج‘ کے لئے دلجیت دوسانجھ نے کتنا معاوضہ لیا؟ حیران کن انکشاف
- ایک دن قبل
نئی تاریخ رقم: الیکٹرک گاڑیوں کی بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی
- 14 گھنٹے قبل

چوبیس سالہ پاکستانی حسینہ عالمی مقابلہ حسن میں شرکت کریں گی
- 2 دن قبل
شوہرکا ڈرامائی انداز میں قتل، خاتون نے کیا منفرد چال چلی؟
- 2 دن قبل

ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں اچانک بڑی کمی
- 12 گھنٹے قبل



.jpeg&w=3840&q=75)