جی این این سوشل

پاکستان

میرے دل میں بھی شاہ محمود قریشی کی طرح بہت سے راز ہیں:پرویز خٹک

پشاور:شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چیف جسٹس دھمکی آمیز مراسلے پر ایک کمیشن بنا دیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

میرے دل میں بھی شاہ محمود قریشی کی طرح بہت سے راز ہیں:پرویز خٹک
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ یہ 6 مہینے کی سازش ہے، عدم اعتماد کے بعد اب صدر کا مواخذہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جو بھی لیڈر مقبول ہوتا ہے اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ وہ لوگ جو فوج کو گالیاں دیتے تھے وہ بوٹ پالش والے واپس آ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا جن کے پلیٹیں اوپر نیچے ہوتی رہیں وہ واپس آ گئے ہیں۔ انہوں نے جلسے کے شرکاء سے عہد لیا کہ عمران  خان کے لیے شیخ رشید کے ساتھ جیلیں بھرنے کے لیے تیار رہیں۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم خان نے سوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس دنیا میں بڑی قوتیں نہیں چاہتی کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست بنے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وہ مراسلہ خود دیکھا جس میں پاکستان کو دھمکی دی گئی، جس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کو ہٹایا جائے نہیں تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے، وہ مراسلہ عدم اعتماد کی تحریک سے پہلے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کے پیسے باہر پڑے ہیں ان وطن فروشوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر نوجوان عمران خان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔

پرویز خٹک نے کہا کہ مخالفین سے پوچھتا ہوں تم نے کس سے ٹکر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عمران خان کے ساتھ دن رات کام کیا، میرے دل میں شاہ محمود قریشی کی طرح بہت سارے راز ہیں، اور یہ راز بتانے تو پڑیں گے۔ انہوں نے کہا جب عمران خان نے امریکہ کو افغانستان میں کارروائیوں کے لیے اڈے دینے سے انکار کیا تو یہ قصہ تب شروع ہوا۔ پرویز خٹک نے کہا کہ نومبر کے مہینے سے امریکہ سے سازش شروع ہوئی، اور ہمارے ملک کے غدار اس سازش کا حصہ بنتے ہوئے ان کے ساتھ مل گئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کہتا ہے ہم نے کچھ نہیں کیا تو پھر کیسے ہمارے 20 غدار اراکین ان کے ساتھ ملاقاتیں کیوں کرتے رہے؟ پرویز خٹک نے کہا کہ مارچ کے مہنے میں امریکہ میں ہمارے سفیر کو بلایا گیا اور کہا گیا کہ اگر تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کی حکومت چلی جاتی ہے تو پاکستان کو معافی مل جائے گی، اگر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہوتی تو بہت برے نتائج ہوں گے۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے، اور یہ کام عمران خان کے علاوہ اور کوئی نہیں کر سکتا، عمران خان کو لے کر آنا، کیونکہ یہ لڑائی اکیلے عمران خان نہیں ہم سب کی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے بھکاری والے بیان پر کہا کہ اس ملک کو بھکاری کس نے بنایا؟ جو خود ارب پتی بن گئے اور ملک کو بنا دیا۔ غداروں سے پوچھتا ہوں کہ پاکستان کو کیسے بیچا؟ سی پیک کو بیچا فوج کو بیچا عوام کو بیچا یا پھر جوہری طاقت کو بیچا؟ پرویز خٹک نے کہا امریکہ تمہارا ماما ہے جو لےکر آیا ہے تمہیں۔ انہوں نے کہا ہم تمہیں پاکستان کو نہیں بیچنے دیں گے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ ہمارے مخالفین کہتے ہیں امریکہ سپر پاور ہے، عمران خان کہتا ہے اللہ سپر پاور ہے

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا شہباز شریف کو سب سے پہلے مبارکباد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے کیوں ملتی ہے؟ انہوں نے خود ہی اس کیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مودی خوددارعمران خان کو تو فون نہیں کرتا اور ان کے لیے ٹوئیٹز کرتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا یہ کہتے ہیں کہ مودی کے ساتھ بڑا پیار ہے، میں کہتا ہوں پیار ہے یا کاروبار ہے؟ انہوں نے کہا نو منتخب وزیر اعظم کہتا ہے کشمیریوں کا دفاع کروں گو، جو کشمیریوں کا قاتل ہے تم ان کو ساڑیاں بھجواتے ہو، چوریاں کھلاتے ہو رائے ونڈ بلاتے ہو۔

انہوں نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ ایک دن یہ سارے میرے خلاف اکٹھے ہو جائیں گے، آج دیکھو اور ایمانداری سے بتاؤ کہ مولانا فضل الرحمان میں اور بلاول میں کیا چیز مشترک ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پی پی میں کیا چیز مشترک ہے؟ ان کے نظریات نہیں ملتے صرف مفادات ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا ایم کیو ایم نے ساڑھے 3 سال اسمبلیوں میں بیٹھ کر ان کی مخالفت کی اور اب جا کے ان سے ہاتھ ملا لیا۔ 16 تاریخ کا انتظار کرو کراچی آ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا عمران خان کا خوف، کرپشن کیسز میں پکڑے جانے کا خوف ان کو اکٹھا کرتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کا خزانہ خالی ہوا اور شریف اور زرداری خاندان کی تجوریاں بھر گئیں۔ انہوں نے کہا یہ دونوں خاندان قوم کے بیوپاری ہیں۔ سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ساڑھے 3 سال یہ کہتے رہے کہ الیکشن کرواؤ تمہارا مینڈیٹ جعلی ہے، اور اب عمران خان الیکشن کے لیے تیار ہے تو یہ الیکشن کی طرف نہیں آ رہے۔ انہوں نے کہا عوام اس بار عمران خان کو دو تہائی اکثریت سے جتوائیں گے۔ دھمکی آمیز مراسلے پر بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چیف جسٹس ایک کمیشن بنا دیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

 

 

علاقائی

مریم نواز نے پروینشل انفورسمنٹ اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے دی

پرائس کنٹرول، سرکاری زمینوں پر قبضہ، تجاوزات اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کے اختیارات ہونگے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مریم نواز نے  پروینشل انفورسمنٹ اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے دی

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب میں پراوینشنل انفورسمنٹ اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے دی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں مریم نواز کو پنجاب پروینشنل انفورسمنٹ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

جس میں بتایا گیا کہ پنجاب کے ہر ڈسٹرکٹ اورتحصیل میں بھی انفورسمنٹ اتھارٹیز قائم کی جائیں گی۔ صوبائی انفورسمنٹ اتھارٹی کی سربراہی چیف سیکرٹری کریں گے،ڈی جی بھی تعینات ہوگا۔ڈسٹرکٹ انفورسمنٹ اتھارٹی،ڈپٹی کمشنر جبکہ تحصیل انفورسمنٹ اتھارٹی کا سربراہ اے سی ہوگا۔انفورسمنٹ اتھارٹیز سرکاری اراضی پر قبضوں سمیت دیگر سپیشل ٹاسک سرانجام دیں گی۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز نے انفورسمنٹ اتھارٹی کے قیام کیلئے قانون سازی کا عمل فوری شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 11 قوانین، رولز اور آرڈیننس میں ترامیم کی منظوری بھی دیدی ۔

پرائس کنٹرول، سرکاری زمینوں پر قبضہ، تجاوزات اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کے اختیارات ہونگے۔تحصیل انفورسمنٹ یونٹ کے زیر نگرانی تحصیل کی سطح پر پولیس سٹیشن اور سپیشل فورس قائم کی جائے گی۔تحصیل انفورسمنٹ اتھارٹی میں یونٹ انچارج، انوسٹی گیشن آفیسرز، انفورسمنٹ آفیسرز اور کانسٹیبل تعینات ہوں گے۔

تحصیل انفورسمنٹ یونٹ کو قانون پر عملدرآمد کے علاوہ مقدمہ درج کرنے، تحقیقات اور گرفتاری کے اختیارات بھی حاصل ہونگے۔ مانیٹرنگ کے لئے صوبائی انفورسمنٹ اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ انفورسمنٹ اتھارٹی کے دفاتربھی قائم کئے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز نے انفورسمنٹ اتھارٹیزکو6 ماہ میں فنکشنل کرنے کی ہدایت کردی ۔

اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر پرویز رشید، صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین، وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ زاہد بخاری، وزیر زراعت محمد عاشق حسین، ایم پی اے ثانیہ عاشق،چیف سیکرٹری، سیکرٹریز زراعت، خزانہ اور دیگر حکام نے شرکت کی ۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

حکومت معیشت کو مستحکم کرنےکیلئے کوشاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پی آئی اے کی اصلاحات پر کام جاری ہے، حکومت پرائیویٹائیزیشن کے اقدامات کو بھی تیزی سے آگے لے کر چل رہی ہے، وزیر خزانہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت معیشت کو مستحکم کرنےکیلئے کوشاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

 

 

 

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے، ترقی کے مواقع کو فروغ دینے، مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے ،غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور معاشی نمو کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے منگل کو اسلام آباد بزنس سمٹ 2024 میں  ترقی کے لئے تعاون کے موضوع پر خطاب کرتےہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے اور ترقی کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔زراعت اور صنعت کی کارکردگی میں بہتری کی توقع ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ جی ڈی پی میں مالی سال 2024 میں 2.6 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ افراط زر کی شرح 24 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، جو کہ مالی سال 2023 میں 29.2 فیصد سے کم ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ پائیدار حدوں میں رہنے کا امکان ہے۔ حکومت نے زرعی شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم فصلوں کی پیداوار غیر معمولی ہے۔

جولائی تا فروری 2024 کے دوران زرعی قرضوں کی تقسیم میں 33.6 فیصد اضافہ ہوا۔ بہتر فصلوں کی وجہ سے صنعتی شعبے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت نے افراط زر کو قابو کرنے کے لیے اقدامات کئے ہیں۔ سی پی آئی افراط زر مارچ 2024 میں 20.7 فیصد سالانہ پر پہنچ گیا جو پچھلے سال کے اسی مہینے 35.4فیصد تھا۔

وفاقی وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے باعث ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے۔ جولائی تا مارچ 2024 کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں 30.2 فیصد اضافہ ہوا۔ایف بی آر نے 6707 بلین روپے کے مقررہ ہدف سے زیادہ جمع کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔ جولائی تا فروری مالی سال 2024 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال 3.9 بلین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں 74 فیصد کم ہو کر 1.0 بلین ڈالر رہ گیا۔جولائی تا مارچ مالی سال 2024 کے دوران تجارتی خسارہ گزشتہ سال 22.7 بلین ڈالر کے مقابلے میں 24.9 فیصد کم ہو کر 17.0 بلین ڈالر رہ گیا۔

حکومت نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ کو مناسب حدود میں رکھنے کا اہداف رکھا ہے۔ حکومت کے فعال اقدامات اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کی وجہ سے معاشی نقطہ نظر مثبت ہے۔

وزارت خزانہ،ایف بی آر اور وزارت قانون کے تعاون کے ساتھ مل کر محصولات کے اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت ریاست کے ملکیتی ادارے میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ 

پی آئی اے کی اصلاحات پر کام جاری ہے۔ حکومت پرائیویٹائیزیشن کے اقدامات کو بھی تیزی سے آگے لے کر چل رہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ٹیکس کیسز میں دانستہ التوا کا نوٹس، چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو اسلام  آباد سمیت دیگر افسران معطل

قومی خزانے کا سینکڑوں ارب قانونی تنازعات کا شکار ہے، کسی قسم کی لاپرواہی اور کوتاہی برداشت نہیں کروں گا، وزیر اعظم شہباز شریف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ٹیکس کیسز میں دانستہ التوا کا نوٹس، چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو اسلام  آباد سمیت دیگر افسران معطل

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ٹیکس کیسز میں دانستہ التوا کا نوٹس لیتے ہوئے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو اسلام آباد اور ان کے ساتھ متعلقہ تمام افسران معطل کرنے اور انکوائری کا حکم دے دیاہے۔ 

منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو اسلام آباد اور ان کے ساتھ متعلقہ تمام افسران کو معطل کر کے فوری انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

وزیرِ اعظم نے حکومت سنبھالتے ہی ایف بی آر اصلاحات کے جلد اور فوری نفاذ کی ہدایات جاری کرتے ہوئے ذاتی طور پر اس عمل کی نگرانی کا فیصلہ کیا تھا۔بیان کے مطابق ٹیکس ٹربیونلز میں اس وقت حکومت کے سینکڑوں ارب روپے کے کیسز زیر سماعت ہیں، وزیرِ اعظم نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ان کیسز کے جلد نمٹائے جانے کی درخواست کی تھی، حال ہی میں اسلام آباد میں ایف بی آر کے وکیل کی جانب سے عدالت میں ایسے ہی ایک کیس کی تاریخ میں تاخیر کی استدعا پر وزیرِ اعظم نے نوٹس لیا۔ 

بیان کے مطابق وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو فوری طور پر واقعہ کی انکوائری کی ہدایت بھی کی ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ قومی خزانے کے سینکڑوں ارب روپے قانونی تنازعات کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں،اس حوالے سے کسی بھی قسم کی لاپرواہی اور کوتاہی قبول نہیں کروں گا۔ اپنے عوام سے کئے گئے عہد کے تحت ٹیکس نظام میں اصلاحات کی خود نگرانی کر رہا ہوں۔ ملک و قوم کی ایک ایک پائی بچانے اور محصولات میں اضافے کیلئے دن رات محنت کرنا ہو گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll