Advertisement
پاکستان

آئی ایم ایف سے دو ارب ڈالرمل جائینگے مگر اصل منزل خودانحصاری ہے : وزیراعظم

اسلام آباد:  وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو آئی ایم ایف سے ایک کے بجائے دو ارب ڈالر ملنے کی امید ہے، ہماری اصل منزل خود انحصاری ہے، فیصلوں پرمشاورت جمہوری عمل ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Jun 28th 2022, 6:06 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
آئی ایم ایف سے دو ارب ڈالرمل جائینگے مگر اصل منزل خودانحصاری ہے : وزیراعظم

تفصیلات  کے مطابق کنونشن سنٹر اسلام آباد میں  وزارت منصوبہ بندی کےزیرانتظام ٹرن اراؤنڈ پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کانفرنس میں شرکت میرے لیے باعث فخر ہے، ہماری اصل منزل خود انحصاری ہے ، خود انحصاری ہی قوم کی سیاسی، معاشی آزادی کی ضمانت ہے،  فیصلوں پرمشاورت جمہوری عمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  بنگلادیش میں 6 ارب ڈالر کی لاگت سے بڑا انفرا اسٹرکچر بنایا گیا  ، پاکستان میں ہنر مند افراد کی کمی نہیں،  ریکوڈک میں اربوں کا خزانہ دفن ہے ابھی تک ہم نے ایک دھیلہ نہیں کمایا مگر اربوں روپے ضائع ہو گئے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب میں  اپنی حکومت کے 14 ماہ کے پلان کے بارے میں  بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت اس دوران زراعت سمیت کئی شعبوں کو بدلنے کا ہدف پورا کرے گی ، اگر ہم نے ملک کی ترقی کے لیے ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر فیصلے نہ کیے تو ہمارا تاریخ میں ذکر تک نہ ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ زراعت وہ شعبہ ہے جس کو چند ماہ میں بدل سکتے ہیں،  اسی طرح امپورٹ میں متبادل تلاش کرنا بھی ہمارا ہدف ہے، افغانستان سے کوئلے کی درآمد پاکستانی روپے میں ہوگی جس سے سالانہ دو ارب ڈالر کا زرمبادلہ بچایا جا سکے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ مقدمات کی مد میں ہم نے اربوں روپے ضائع کیے، پوری دنیا اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے، گزشتہ حکومت نے گیس کے سستے اور لانگ ٹرم معاہدے نہیں کیے، گزشتہ حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کو التوا کا شکار رکھا۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ اگر کام کرنے کی نیت ہو تو راستے خود بن جاتے ہیں، اتحادی حکومت پاکستان کے چاروں صوبوں پر محیط ہے، وزرا کی گفتگو انتہائی ٹھوس اورسنجیدہ ہے، ہمیں اپنی ذاتی پسند ونا پسند سے بالاتر ہو کر ملک کی ترقی کیلئے کام کرنا ہوگا، ریڈ ٹیپ ازم، پرمٹ راج اور این او سی کے چکروں کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔

قبل ازیں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے خطرے سے نکل چکا ہے، ملک خسارے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے مشکل فیصلے کرنا پڑے۔

Advertisement