نانگا پربت سر کرنیوالے کم عمر پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف کا واپسی پر رابطہ منقطع ، والدکی آرمی چیف سے مدد کی اپیل
لاہور : پاکستان کے نوجوان کوہ پیما شہروز کاشف کا گزشتہ روز نانگا پربت سر کرنے کے بعد واپسی پر والدین سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

شہروز کاشف کے والد کاشف سلمان نے اپنے بیٹے کو نانگا پربت سے ریسکیو کرنے کے لیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مدد کی اپیل کی ہے۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے نانگا پربت پر پھنسے نوجوان پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف اور ان کے گائیڈ کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کوہ پیما شہروز کاشف نے منگل کی صبح نانگا پربت چوٹی سر کی تھی جبکہ موسم کی خرابی کے دوران وہ اپنے ساتھی کے ہمراہ واپس آرہے تھے ۔ ان کے والد کے مطابق واپسی کے سفر کے دوران وہ کیمپ فور سے ذرا آگے راستہ بھول جانے کے سبب پھنس گئے ہیں۔
شہروز کاشف کے والد نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ شہروز نانگا پربت کے سمٹ سے واپسی کے راستے میں 7350 میٹر کی بلندی پر تھا جب اس سے گذشتہ شام 7:30 پر آخری بار ٹریکر کے ذریعے رابطہ ہوا اور اس کے بعد سے رابطہ منقطع ہے۔
شہروز کاشف کے والد نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن قبل شہروز نے کنچن جنگا (8586 میٹر، دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی) سر کرنے کے بعد اس کامیابی سے فوج کو خراج تحسین پیش کیا تھا ۔ اس کی عمر صرف 20 سال ہے، وہ اتنے بڑے بڑے کارنامے سر چکا ہے ، پاکستان کا نام روشن کر چکا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بیٹے کی واپسی کیلئے جلد ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز جنھیں زیادہ تر لوگ ’براڈ بوائے‘ کے نام سے جاتے ہیں، 8000 میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے آٹھ کو سر کر چکے ہیں اور ان کے والد کے مطابق اب شہروز کا مشن باقی چوٹیوں کو ڈیڑھ سال کے اندر اندر سر کرنا ہے۔
رواں برس مئی میں شہروز دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیوں کو 23 دنوں کے اندر سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے تھے۔
اس سے قبل شہروز نے دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو (8611 میٹر)، ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑا پیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس (5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔
دنیا کی پہلی اور دوسری بلند ترین چوٹیوں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سر کرنے کے بعد شہروز نے تیسری، چوتھی اور پانچویں بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے اس مشن کو ’پروجیکٹ 345‘ کا نام دیا تھا۔
دوسری جانب براؤٹ پیک سر کرنیوالے شریف سدپارہ بھی انتہائی بلندی سے گر کر لاپتہ ہوگئے ہیں، ان کے اہل خانہ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سرچ آپریشن کا مطالبہ کیا ہے۔

اسحا ق ڈار کی مصر ی وزیر خارجہ کی ملاقات، علاقائی اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
- 7 hours ago

ضلع دادو کے علاقے میہڑ میں گلے کی بیماری میں مبتلا 3 بچے انتقال کرگئے
- 6 hours ago

افغان دارالحکومت کابل میں دھماکا، سات افراد جاں بحق، متعدد زخمی
- 7 hours ago

’مجھے بچالو، میں مرنا نہیں چاہتا‘، گل پلازہ میں پھنسے نوجوان کی بھائی کو آخری کال
- 12 hours ago

جدید ٹیکنالوجی ویلیو ایڈیشن اور زرعی برآمدات میں اضافے سےپاکستان تجارتی سرپلس حاصل کر سکتا ہے،وزیر اعظم
- 7 hours ago

آسٹریلیا نے دورہ پاکستان کیلئے 17 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
- 10 hours ago

سانحہ گل پلازہ، لاپتہ افراد کی نئی فہرست جاری،تعداد 73 تک پہنچ گئی
- 12 hours ago

معروف اداکار رانا آفتاب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق
- 7 hours ago

کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت کرانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی،الیکشن کمیشن
- 12 hours ago
کوشش ہے فروری کے آخر تک فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کر دیں،شزا فاطمہ
- 10 hours ago

سی ٹی ڈی کی کوئٹہ میں کامیاب کارروائی، کالعدم بی ایل اے کے 5 دہشتگرد جہنم واصل
- 6 hours ago

ٹرمپ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے،سابق امریکی سفیر کا دعویٰ
- 11 hours ago













