جی این این سوشل

پاکستان

امام عالی مقام کی قربانیوں کی یاد میں ملک بھر میں مجالس اور جلوس

امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کی یاد میں ملک بھر میں مجالس برپا ہوئیں اور جلوس نکالے گئے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

امام عالی مقام کی قربانیوں کی یاد میں ملک بھر میں مجالس اور جلوس
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نثار حویلی اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہوا، مرکزی جلوس کل شام امام بارگاہ کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔

لاہور میں 9 محرم کا ایک اور مرکزی جلوس پانڈو اسٹریٹ اسلام پورہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگیا، جلوس صبح پانڈو اسٹریٹ سے ہی برآمد ہوا تھا۔

اسلام آباد میں9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس امام بارگاہ اثنا عشری پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

پشاور کے مختلف علاقوں سے شب عاشور کے جلوس برآمدہوگئے، مختلف امام بارگاہوں سے شب عاشور کے 16 جلوس برآمد ہوئے۔

جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے اذان فجر کے وقت اختتام پذیر ہوں گے۔

روہڑی میں امام بارگاہ شاہ عراق سے برآمد نویں محرم الحرام کے ساڑھے پانچ سو سالہ قدیمی نو ڈھالہ تعزیعے کے جلوس کے شرکاء آج رات میدان کربلا میں قیام کریں گے۔ شدید گرمی میں جلوس کےشرکاء پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

حیدرآباد میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس امام بارگاہ چہاردہ معصومین پہنچ کر اختتام پذیر ہوا، جلوس کے راستوں پر عزاداروں کے لیے سیبلیں، نذر و نیاز کا اہتمام بھی کیا گیا۔

میرپور خاص، بدین، سجاول، کندھ کوٹ سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں نکالے گئے جلوس اپنی منزلوں پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوئے۔

ملتان میں مرکزی جلوس امام بارگاہ ممتاز آباد سے برآمد ہو کر اپنےمقررہ راستوں سےگزر اسی مقام پر اختتام پذیر ہوا۔

فیصل آبادمیں 9 محرم الحرام کے سلسلہ میں 93 جلوس اور 138مجالس ہوئیں، مرکزی جلوس امام بار گاہ حیدریہ امین پور بازار سے برآمد ہوا۔

جھنگ میں نویں محرم کا مرکزی جلوس امام بارگاہ قصر زہرا جبکہ گوجرانوالہ میں امام بارگاہ حویلی سادات سے مرکزی جلوس برآمد ہوا۔

میانوالی میں عزاداروں نے دریائے سندھ میں کشتیوں پر ماتمی جلوس نکالا، رحیم یار خان، بہاولپور، چنیوٹ، جہلم سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں جلوس نکالے گئے۔

پاراچنار میں مرکزی امام بارگاہ سے عزاداری کا مرکزی جلوس برآمد ہوا، جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا واپس اسی مقام پر نماز فجر میں اختتام پذیر ہوگا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں نویں محرم الحرام کا ماتمی جلوس مرکزی امام بارگاہ بموں شاہ سے جبکہ مظفرآباد میں امام بارگاہ بیلہ نور شاہ سے مرکزی جلوس برآمد ہوا۔

 گلگت، اسکردو، سمیت گلگت بلتستان بھر میں شہدائے کربلا کی یاد میں جلوس نکالے گئے۔

جرم

سارہ قتل کیس:ملزم شاہنواز اور والد ایاز امیر کا مزیدجسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد: پاکستانی نژاد کینیڈین اہلیہ کے قتل کیس میں ملزم شاہنواز امیر اور والد ایاز امیر کاجسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔ ایاز امیر کی اہلیہ کو تین روز کی عبوری ضمانت مل گئی۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سارہ قتل کیس:ملزم شاہنواز اور والد ایاز امیر کا مزیدجسمانی ریمانڈ منظور

سیشن کورٹ اسلام آباد میں اہلیہ کو قتل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔سینئر صحافی ایاز امیر اور  مرکزی ملزم شاہنواز امیر سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایاکہ ملزمان سے  پاسپورٹ اور بینک تفصیل کو برآمد کرنا ہے۔7دن کے جسمانی  ریمانڈ کی استدعا ہے۔

جج نے استفسار کیا کہ ایاز امیر کا اس کیس سے کیا تعلق ہے؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم ایاز امیر کو مقتولہ کے چچا اور چچی نے نامزد کیا ہے۔ملزم ایاز امیر کا تعلق چکوال سے ہے اور ملزم شاہنواز امیر کا والد ہے

جج نے سوال  کیا کہ مقتولہ کے والدین کدھر ہیں؟ عدالت کو بتایا گیا کہ مقتولہ کے والدین کینڈا میں ہیں اور کل تک وہ پاکستان پہنچ جائیں گے۔

جج نے استفسار کیا کہ کیس میں وکیل کون ہے، صحافی ایاز امیر نے جواب دیا کہ میں خود ہی اپنا کیس لڑوں گا۔بہت بڑا صدمہ پہنچا وقوعہ کی اطلاع میں نے خود پولیس کو دی۔وقوعہ کے وقت میں چکوال میں تھا اور فوری طور پر آئی جی کو آگاہ کیا۔آئی جی نہیں تھے تو ایس پی رورل کو اطلاع دی۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھے خدشہ تھا کہ وقوعہ میں کوئی اور زخمی نہ ہو۔پولیس کو سارا راستہ میں نے ہی بتایا۔پولیس نے مقدمہ درج کیا اور اپنا موقف دیا۔

عدالت نے  پولیس کی استدعا پرمرکزی ملزم شاہنواز امیر کا تین روزہ جبکہ ایاز امیر کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ جبکہ سینئر صحافی ایاز امیر کی اہلیہ ثمینہ شاہ کی تین روز کیلئے عبوری ضمانت منظور کی گئی۔

عدالت نے  ملزمہ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ملزمہ کو پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

پڑھنا جاری رکھیں

تفریح

گلوکارہ ناہید اختر نے زندگی کی 66 بہاریں دیکھ لیں 

کراچی: پاکستان کی معروف گلوکارہ ناہید اختر آج 66 ویں سالگرہ منا رہی ہیں ۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گلوکارہ ناہید اختر نے زندگی کی 66 بہاریں دیکھ لیں 

پاکستان کی معروف  اور خوبصورت گلوکارہ ناہید اختر 1954ء کو ملتان میں پیدا ہوئیں ۔ نوجوانی ہی میں اپنے شوق کے  باعث ریڈیو پاکستان ملتان سے گلوکاری کا آغاز کیا ۔ 1970ء میں پی ٹی وی کے پروگرام لوک تماشا  میں حصہ لیا ۔  وہاں پہ ان کا گایا ہوا گیت ’’مینوں سوڈا واٹر لے دے وے روز بالما کہندی‘‘ بہت مقبول ہوا۔

ثقافتی پروگرام کے ذریعے اپنی مدھر اور خوبصورت آواز سے لوگوں کو متاثر کرنے والی پاکستان کی لیجنڈ گلوکارہ ناہید اختر نے موسیقی کی دنیا میں خوب نام کمایا۔  فلم ’’ننھا فرشتہ‘‘ کے نغمے’’دل دیوانہ دل‘‘ نے ناہید اختر کی شہرت میں مزید اضافہ کیا لیکن فلم ’’شمع‘‘ کے گیت ’’کسی مہرباں نے آکے میری زندگی سجادی‘‘ نے ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ کردیا۔

1991 میں ناہید اختر نے معروف ڈرامہ نگار آصف علی پوتا سے شادی کے بعد گلوکاری کو خیرباد کہہ دیا۔ ان کی خوبصورت آواز سے بالی ووڈ والے بھی متاثر ہوئے اور انہوں نے ناہید اختر کے گائے ہوئے کئی گیتوں کو اپنی فلموں میں کاپی کیا ۔

ناہید اختر کے مقبول ترین نغموں، غزلوں اور ملی نغموں کی ایک طویل فہرست ہے ، ان کے چند گیت اور غزلیں  بے پناہ مقبول ہوئیں جن میں تو میرے ساتھ ساتھ رہے تو جدا نہ ہو ، یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم کہانی محبت کی زندہ رہے گی ، آئے موسم رنگیلے، کسی مہرباں نے آکے میری زندگی سجا دی ، تیری الفت میں صنم،شب غم مجھ سے مل کر ایسے روئی ، چھاپ تلک سب چھین لی رے موسے نینا ملائی کے،شامل ہیں ۔

موسیقی کی دنیا میں گراں قدر خدمات انجام دینے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 2007 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی ملا اور 1974، 1975 اور 1985 میں نگار فلم ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

سیلاب متاثرین کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات یقینی بنا رہے ہیں : وزیر صحت 

اسلام آباد: وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات یقینی بنا رہے ہیں۔ 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سیلاب متاثرین کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات یقینی بنا رہے ہیں : وزیر صحت 

تفصیلات کے مطابق وزیر صحت عبدالقادر پٹیل  نے ایک بیان میں  کہا ہے  کہ ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں روزانہ کی بنیاد پر ہیلتھ کیمپس لگائے جارہے ہیں ‘ہیلتھ کیمپس وفاقی ایمرجنسی آپریشن سینٹر پولیو ‘ صوبائی ایمرجنسی پولیوسنٹرز اور آغا خان کے اشتراک سے لگائے جاتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز خیبرپختونخوا ، سندھ ، بلوچستان اور پنجاب میں 44 جبکہ خیبرپختونخوا کے 8 اضلاع میں 16 ہیلتھ کیمپس لگائے گئے‘اسی طرح پنجاب کے دو اضلاع میں چار ‘ بلوچستان کےسات اضلاع میں 13 اورسندھ کے 10 اضلاع میں 11 ہیلتھ کیمپس کا انعقاد کیا گیا۔ مجموعی طور پر 5644 مریضوں کو طبی امداد فراہم کی گئی ۔

وزیر صحت نے کہا کہ پانچ سال سے کم عمر 1262 بچوں کو طبی امداد دی گئی جبکہ ہیلتھ کیمپس میں 705 بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلائے گئے ان کیمپس میں 222 بچوں کو حفاظتی ٹیکے بھی لگائے گئے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll