اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے توہین عدالت کیس میں اپنے بیان پر معافی مانگ لی۔ عدالت نے عمران خان پر فرد جرم روک دی ۔


تفصیلات کے مطابق خاتون جج سے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر توہین عدالت کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے سماعت کی ۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ،عمران خان کے وکیل حامد خان اور عدالتی معاونین عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے توہین عدالت کیس میں موقف اختیار کیا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میرے بیان سے توہین ہوئی تو میںخود ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے پیش ہو کر وضاحت کرنے کو تیار ہوں کہ میرا کبھی مقصد کسی جج کی توہین کرنا نہیں تھا۔ عمران خان نے کہا کہ جیسے جیسے مقدمہ آگے چلا، مجھے سنجیدگی کا احساس ہوا ، میں نے خاتون جج کیخلاف لیگل ایکشن کی بات کی تھی ، اگر آپ کہیں تو خاتون جج کے پاس جا کر یقین دلاؤں گا کہ نہ میں، نہ میری پارٹی آپ کو نقصان پہنچائے گی ۔ عمران خان نے خاتون جج سے معافی کے لیے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں کچھ ایسا نہیں کروں گا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمارے لیے توہین عدالت کاروائی کرنا مناسب نہیں ہوتا، اگر آپ کو غلطی کا احساس ہوگیا اور معافی کے لیے تیار ہیں تو یہ کافی ہے، خاتون جج کے پاس جانا یا نہ جانا آپ کا ذاتی فیصلہ ہوگا، ہم چارج فریم نہیں کر رہے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے 3 اکتوبر تک سماعت ملتوی کر دی۔
اس سے قبل عدالت نے عمران خان کی جانب سے دو مرتبہ جمع کرائے گئے جوابات کو مسترد کرتے ہوئے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ خاتون جج کو دھمکیوں سے متعلق توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئر مین پی ٹی آئی کو غیر مشروط معافی مانگنے کے لیے دو مواقع فراہم کیے تھے تاہم عمران خان نے غیر مشروط معافی مانگنے کے بجائے اپنے الفاظ واپس لینے اور آئندہ محتاط رویہ اختیار کرنے کا جواب عدالت میں جمع کرایا۔
خیال رہے کہ 8 ستمبر 2022 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دیے گئے بیان پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی تھی۔
عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی آج سماعت کے موقع پر پولیس سکیورٹی آرڈر جاری کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پیشی کے لیے 2 ایس پیز سمیت 710 افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ہائی کورٹ کے گرد مانیٹرنگ کی جائے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ جانے والے راستوں کو بھی خاردار تاریں لگا کر بند کردیا گیا ہے جبکہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاکستان میں موبائل ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں ایک سال میں کتنا اضافہ کیا گیا؟
- 21 گھنٹے قبل

بچوں کے پسندیدہ ڈرامہ 'عینک والا جن' کی نئے انداز میں واپسی
- 19 گھنٹے قبل

مصنوعی ذہانت نے ماہرین کو حیران کر دیا، آزمائش میں غیر معمولی قدم
- 21 گھنٹے قبل
عاطف اسلم نئی البم ’صبح آئے نا‘ ریلیز کریں گے, تاریخ سامنےآگئی
- ایک دن قبل

جاوید شیخ کی جگہ فیصل رحمان کو کیوں چنا گیا؟ اداکار نے برسوں بعد دل توڑ دینے والی حقیقت بتا دی
- 2 دن قبل

مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جج ہلاک
- ایک دن قبل

2027 میں 5 ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیےپاکستان انگلینڈ کا دورہ کرے گا
- 20 گھنٹے قبل
ڈی آئی جی آپریشنزلاہور نے غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا
- ایک دن قبل

بالی ووڈ اداکارہ کا احتجاج کے حوالے سے بیان، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی
- ایک دن قبل
لاہور: آوارہ کتوں کا دو کم سن بچوں پر حملہ، دونوں شدید زخمی
- 18 گھنٹے قبل

سعودی عرب کا دفاع، پاکستان کا دفاع ہے: طاہراشرفی
- 16 گھنٹے قبل
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ
- ایک دن قبل




