جی این این سوشل

پاکستان

سپریم کورٹ سائفر کی تحقیق نہیں کرے گا تو حالات گھمبیر ہوسکتے ہیں؛ شیخ رشید

اگرعمران خان کی کال پر فیصلہ چوک اور چوارہے میں ہونا ہے تو جھاڑو پھر جائے گا۔ سربراہ عوامی مسلم لیگ کا بیان

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سپریم کورٹ سائفر کی تحقیق نہیں کرے گا تو حالات گھمبیر ہوسکتے ہیں؛ شیخ رشید
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سائفر کی تحقیق نہیں کرے گا تو حالات گھمبیر ہوسکتے ہیں، اکتوبر اہم ہے 15 نومبر تک اہم سیاسی فیصلے ہوجائیں گے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کم عقل حکمران ہر قدم اپنے خلاف اٹھاتے ہیں، اسلام آباد کی پولیس تھک چکی ہے،

عمران خان کی نااہلی اور گرفتاری سے حکمرانوں کو کچھ نہیں ملے گا اور سپریم کورٹ سائیفر کی تحقیق نہیں کرے گا تو حالات گھمبیر ہو سکتے ہیں۔ 

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ 2 ہفتوں سے بلاول بھٹو امریکہ میں مزے کررہا ہے اُسے سندھ کے سیلاب زدگان کی کوئی فکر نہیں، پاکستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اب اعلیٰ عدالتوں سے منسلک ہے،

4 اکتوبر کو نیب ترامیم کیس کی سماعت بھی اہم ہے، اگر عمران خان کی کال پر فیصلہ چوک اور چوارہے میں ہونا ہے تو جھاڑو پھر جائے گا، عوام کے مسائل سے ڈیل کی ضرورت ہے چوروں سےنہیں، اکتوبر اہم ہے 15 نومبر تک اہم سیاسی فیصلے ہوجائیں گے۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سفارتی سائفر سے متعلق اہم اعلان کر دیا، انہوں نے کہا کہ سائفر موجود ہے جس میں سب کچھ لکھا ہوا ہے

اور وہ چیف جسٹس کے پاس بھی ہے، چیف جسٹس کہہ دیں سائفر غلط ہے، ہم اگلے دن اسمبلی واپس چلے جائیں گے، سائفر کی ایک کاپی میرے پاس تھی، پتا نہیں وہ کہاں غائب ہو گئی ہے۔ 

چئیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ڈی مارش کرنےسے پہلے ہماری جانب سے کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا تھا، سائفر معاملے کو قومی سیکیورٹی کمیٹی کے سامنے رکھنے کے بعد ہم نے پبلک کیا،

قومی سیکیورٹی کمیٹی میں فیصلہ کرچکے تھے کہ سائفر کو ڈی مارش کیا جائے، ڈی مارش کرنےسے پہلے ہماری جانب سے کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا،

جو بھی باتیں آڈیو لیک میں سائفر کے حوالے سے کیں وہ سب تو میں جلسوں میں کر چکا ہوں، عام لوگ سائفر کو نہیں سمجھتے، ان کی زبان میں انہیں سمجھانے کے لیے لیٹر کا لفظ استعمال کیا، پاکستانی سفیر نے سائفر کے آخر میں لکھا تھا کہ ہمیں اسے ڈیمارچ کرنا چاہیے۔

پاکستان

برطانوی ہائی کمشنررکشے میں میچ دیکھنے پہنچ گئے ، ویڈیووائرل 

راولپنڈی : پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر رکشے میں بیٹھ  کر انگلینڈ اور پاکستان کا پہلا ٹیسٹ میچ دیکھنے پہنچ گئے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

برطانوی ہائی کمشنررکشے میں میچ دیکھنے پہنچ گئے ،  ویڈیووائرل 

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ویڈیو پیغام میں  برطانوی ہائی کمشنر کرسچین ٹرنر نے کہا کہ انگلینڈ اور پاکستان نے کرکٹ کی دنیا میں دھوم مچا دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونےوالی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں دونوں ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہوا اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل بھی یادگار تھا۔

کرسچین ٹرنر کا کہنا ہے کہ دونوں بار انگلینڈ کی ٹیم بازی لے گئی اور اب سب کی نظریں ٹیسٹ سیریز پر ہیں۔

ویڈیو میں وہ یہ بھی کہتے نظر آئے  کہ  یکم سے 21 دسمبر تک جیت اسی کی ہوگی جو گرم جوشی کا مظاہرہ کرے گا، لڑکوں جم کر کھیلنا کیونکہ ہے جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار۔

اس کے بعد برطانوی ہائی کمشنر نے رکشہ ڈرائیور کو پوٹھوہاری  زبان میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ  ’ راجا جی پنڈی جلساں تے میچ تکساں‘۔ برطانوی ہائی کمشنر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

 وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

 

وزیرداخلہ راناثنااللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان جب حکومت میں تھے تو اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ساڑھے تین سال میں عمران خان نے کرپشن کا بیانیہ بنایا۔عمران خان کو چاہیے تھا قوم سے معذرت کرتے اور واپس پارلیمنٹ میں آتے۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو سیاسی روایات کے تحت مسائل پر بات کرنی چاہیے تھی۔26نومبر کو عمران خان ناکام ہوئے ، لانگ مارچ میں عوام نے ساتھ نہیں دیا۔

عمران خان نے خیبرپختو نخوا اور پنجاب اسمبلیوں کوتوڑنے کی بات کرکے بحرانی کیفیت پیداکی۔جلسوں میں ناکام ہوکے، تقریریں کر کے، اسمبلیاں توڑنا، آئین، قانون، جمہوری عمل کی توہین ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سسٹم عمران خان کواقتدار دے تو کرپٹ نہیں، اگر نہ دے تو برا ہے۔سنا ہے پی ٹی آئی والے 20 دسمبر سے استعفے دیں گے۔اگر استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظار کیوں ؟ عمران خان کو اگر کرپٹ سسٹم میں نہیں رہنا تو سینیٹ اور آزاد کشمیر سے باہر جائیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ فری اینڈ فیئر الیکشن کے بنیادی تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم کوشش کریں گے کہ اسمبلیاں توڑنے کے عمل میں معاون نہ ہوں۔ اسمبلیاں توڑنا کسی سیاسی جماعت اور نہ ملک کے حق میں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کو بھی روکنے کی کوشش کی جائے گی، جو بھی مسائل ہوں گے ان کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیے جائیں گے۔جو بھی اس کو آئین کے تحت روکنے میں ہوسکتا ہے اس طرف جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے۔ آئینی مدت پوری کریں گے۔

اسمبلیاں توڑنے سے پہلے اسپیکر قومی اسمبلی  کے پاس آئیں اور کہیں استعفے قبول کیے جائیں۔پارلیمنٹ لاجز، گھر،گاڑیاں،تنخواہیں اور مراعات نہیں چھوڑتے اور شور مچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم الیکشن سے خوفزدہ نہیں ہیں۔کوئی نہ سمجھے کہ ہم الیکشن سے پیچھے ہٹیں گے۔ہم کمپین کریں گے، نواز شریف صاحب کمپین کے لیے میسر ہوں گے، یہ ان کی بھول ہے یہ جیت کے واپس آجائیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

صدر مملکت کا چین کے سابق صدر جیانگ ژیمن کے انتقال پر اظہار تعزیت

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چین کے سابق صدر جیانگ ژیمن کے انتقال پر عوامی جمہوریہ چین کی قیادت اور عوام سے اپنی دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

صدر مملکت کا چین کے سابق صدر جیانگ ژیمن کے انتقال پر اظہار تعزیت

ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری تعزیتی بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ چین کے سابق صدر جیانگ ژیمن ایک ممتاز مدبر تھے  جنہوں نے مسلسل اقتصادی اصلاحات کے ذریعے چین کو تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن کیا  اور ملک میں معیار زندگی نمایاں طور پر بلند کیا۔ 

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ سابق چینی صدر جیانگ ژیمن کی بصیرت نے پاکستان اور چین کے درمیان دوستی اور عوام کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔

انہوں نے کہا کہ چین کے آنجہانی سابق صدر کو ان کی ملک کے لیے ان اعلی خدمات اور کوششوں کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جن کی بدولت چین آج دنیا کی ایک عظیم معاشی قوت کے طور ایستادہ ہے ۔

 صدر مملکت نے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں ہم چین کے عوام کے ساتھ ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll