جی این این سوشل

پاکستان

سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سپریم کورٹ  نے   ارشد شریف قتل  کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

جی این این کےمطابق ارشد شریف قتل پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی مین 5 رکنی لارجر بینچ نے کی، پانچ رکنی لارجر بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی اور جسٹس محمد علی مظہر  شامل تھے۔

سپریم کورٹ  نے  حکومت کو آج ہی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔

دوران سماعت چيف جسٹس نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کا انسانی حقوق سیل ارشدشریف کی والدہ کےخط پر کام کررہا ہے ، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کوواپس آئےکافی عرصہ ہوگیا، حکومتی کمیشن کی حتمی رپورٹ تاحال سپریم کورٹ کو کیوں نہیں ملی؟۔

چیف جسٹس کے استفسار پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب رپورٹ آئی وزیر داخلہ فیصل آباد میں تھے، رانا ثناء اللہ کے دیکھنے کے بعد رپورٹ سپریم کورٹ کو دی جائے گی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وزیر داخلہ نے رپورٹ تبدیل کرنی ہے؟ وزیرداخلہ کو ابھی بلا لیتے ہیں،  تحقیقاتی رپورٹ تک رسائی سب کا حق ہے، صحافی قتل ہو گیا، سامنے آنا چاہیے کہ کس نے قتل کیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل تک رپورٹ سپریم کورٹ ميں جمع کروادیں گے، جس پر چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ 43 دن سے رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں، آج جمع کرائیں تاکہ کل اس پر سماعت ہو سکے۔

اس سے قبل  سپریم کورٹ کی جانب سے وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور اطلاعات کے سیکرٹریز کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی آئی اور پی ایف یو جے کے صدر کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ روز قبل  سابق وزیر اعظم عمران خان نے سینیئر صحافی ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے نامور صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کو کینیا میں قتل کر دیا گیا تھا۔

پاکستان

لاہور ہائی کورٹ نے گھریلو صارفین کو500 یونٹس تک سبسڈی دینے کا حکم دے دیا

لاہور ہائی کورٹ نے گھریلو صارفین کو500 یونٹس تک سبسڈی دینے کا حکم دے دیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

لاہور ہائی کورٹ نے گھریلو صارفین کو500 یونٹس تک سبسڈی دینے کا حکم دے دیا

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے مختلف نوعیت کی 3659 درخواستوں پر سماعت کی تھی ۔

عدالت کے روبرو اظہر صدیق سمیت دیگر وکلا نے موقف اختیار کیا تھا کہ حکومت نے بجلی کے بلوں میں غیر قانون طور پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز نافذ کردئیے ہیں جس سے صارفین کو اضافہ بجلی کے بل بھیجے گئے ہیں۔

اس حوالے سے قواعد وضوابط پر عمل نہیں کیا گیا لہذا عدالت بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسمنٹ سمیت دیگر سرچارجز کی وصولی کو غیر قانونی قرار دے .

عدالت نے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسمنٹ سمیت دیگر سرچارجز کی وصولی غیر قانونی قرار دیدیا عدالت نے زرعی اور گھریلو صارفین کے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمبٹ کو خلاف قانون قرار دیا۔

عدالت نے 500 یونٹ تک گھریلو صارفین کو زیادہ سے زیادہ سبسڈی قرار دیا،عدالت نے فیول ایذجسٹمنٹ کی وصولی کو کالعدم قرار دے دیا ،عدالت نے سولر اور نیوکلئیر سمیت دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کا حکم دیا،اوور چارجنگ کرنے والوں کے خلاف نیپراکو کارروائی کرنے کا حکم بھی دیدیا گیا۔ عدالت کا فیصلہ 81صفحات پر مشتمل ہے ۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ہم نظریں بچھائے بیٹھے ہیں، آئیں جیل بھریں،شروعات زمان پارک سے کریں، مریم نواز

مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز نے چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے جیل بھرو تحریک کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انتظار کر رہے ہیں یہ جیل بھریں اور شروعات زمان پارک سے کریں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ہم نظریں بچھائے بیٹھے ہیں، آئیں جیل بھریں،شروعات زمان پارک سے کریں، مریم نواز

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نظریں بچھائے بیٹھے ہیں، آئیں جیل بھریں اور شروعات زمان پارک سے کریں ،  انہوں نے فرنٹ لائن پرخواتین کو  رکھا ہوا ہے، خود سامنے آئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک مشکلات کاشکار ہے۔عوام کو پتہ ہے کہ ملک کو ان حالات تک کون لایا۔آنے والے الیکشن کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔

2017میں نوازشریف کو اقامے پر نکالا گیا۔نوازشریف کو بیٹے سے تنخوانہ نہ لینے پرنکالا گیا۔دوسری طرف سنگین جرائم دنیا کے سامنے ہیں۔

مریم نواز کا کہنا ہے کہ جنہوں نے جرم کیا انہیں اس کی سزاملنی چاہیے۔میں دودفعہ قید میں رہی ہوں۔نوازشریف ایک سال جیل میں رہے۔شہباز شریف نے کینسرکے باوجود جیل کاٹی۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایک انتقام ہوتا ہے اور ایک اپنے جرائم کاحساب دینا ہوتا ہے۔جس نے جرائم کیے اسے حساب تو دینا پڑے گا۔ان کامشکل وقت ابھی نہیں آیا ابھی تو انصاف ہونا ہے۔

انہیں ابھی کسی نے انگلی نہیں لگائی۔یہ  دو دن کی قید میں گلے لگ کر رونے لگ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے تاریخ میں پہلی بار آئی ایم ایف پروگرام کو خداحافظ کہہ دیا تھا۔

گزشتہ حکومت نے دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس چلی گئی۔ ایسا لگتا تھا کہ پاکستان حکومت نہیں آئی ایم ایف چلا رہا ہے۔ اب ہم عوام کو ریلیف دینا چاہے بھی تو نہیں دے سکتے۔آنے والا وقت بہتر ہوگا۔

مریم نواز کا کہنا ہے کہ ملک کو بیرونی کوئی خطرہ نہیں، ملک میں جب تک استحکام نہیں آئے گا، ترقی نہیں آئے گی، ساری جماعتیں ایک صفحے پر ہیں۔ان کی نااہلی اتنی شدید تھی کہ ترقی کرتے پاکستان کو تباہ کیا گیا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کے پی سانحے کے بعد شہباز شریف نے صوبائی حکومت سے سوال پوچھے تو غصہ ہو گئے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کرایا گیا، خطرناک دہشت گروں کو انہوں نے چھوڑا تو یہ صورتِ حال ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذڈرامہ الیکشن کے دن تک تھا۔ہم عوام سے نہ تو کوئی جھوٹا وعدہ کریں گے اور نہ ہی کوئی ڈرامہ کریں گے۔جنوبی پنجاب کی عوام کو جھوٹی تسلی نہیں دیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

جرم

اسامہ ستی قتل کیس: 2 اہلکاروںکو پھانسی، 3 کو عمر قید کی سزا

عدالت نے فیصلہ سنانے سے قبل تمام میڈیا نمائندگان اور غیر متعلقہ افراد کو باہر نکال دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسامہ ستی قتل کیس: 2 اہلکاروںکو پھانسی، 3 کو عمر قید کی سزا

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے اسامہ ستی قتل کیس کے 2 اہکلاروں کو سزائے موت جبکہ 3 کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن جج زیبا چودھری نے اسامہ ستی کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔
عدالت نے فیصلہ سنانے سے قبل تمام میڈیا نمائندگان اور غیر متعلقہ افراد کو باہر نکال دیا، ملزمان افتخار احمد، سعیداحمد، شکیل احمد اور محمد مصطفی کو ہتھکڑیوں میں عدالت پیش کیا گیا۔

عدالت نے ملزمان افتخار احمد اور محمد مصطفی کو سزائے موت جبکہ سعید احمد، شکیل احمد اور مدثر مختار کو عمر قید کی سزا سنائی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے افتخار احمد اور محمد مصطفی پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

پس منظر:

واضح رہےکہ اسامہ ستی کو  جنوری 2021 کو اسلام آباد میں سری نگر ہائے وے پر رات ڈیڑھ بجے اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے اہلکاروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

ابتدائی طور پر پولیس نے واقعےکو ڈکیتی کا رنگ دیا تھا،بعد ازاں پانچ پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll