Advertisement
پاکستان

حکومت کی نیب کے دو سابق چیئرمینوں کیخلاف تحقیقات کی منظوری

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے نیب کے دوسابق چیئرمینوں اور افسران کیخلاف تحقیقات کی منظوری دے دی۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Apr 11th 2021, 1:02 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے

تفصیلات کے مطابق  وفاقی حکومت نے براڈ شیٹ اسکینڈل سے متعلق ایک اور بڑا فیصلہ کرلیا، وفاقی کابینہ نے نیب کے دو سابق چیئرمینوں اور افسران کے خلاف فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ( ایف آئی اے ) کو تحقیقات شروع کرنے کی منظوری دے دی ۔

ذرائع کے مطابق 2011 سے 2017 کے دوران  نیب کے چیئرمین اور ذمہ دار افسران  کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی گئی ہے۔ نیب کا 2011 سے 2017 کے درمیان تاریک ترین دور قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب افسران نے عدالت کو گمراہ کرتے ہوئے تندہی سے سوئس کیسز بند کرانے میں کردار ادا کیا ۔نیب افسران کے کردار کی وجہ سے اصل ریکارڈ دستیاب ہونے کے باوجود سوئس کیسز بند کرائے گئے ۔سوئس کیسز سے متعلق نیب کے پاس اصل ریکارڈ موجود تھا۔

خیال رہے  کہ  براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ پر حکومت نے 5لوگوں کے خلاف فوری کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔وفاقی وزیر فواد چودھری نے یہ بھی کہا تھا کہ آصف زرداری کےخلاف سوئس مقدمات دوبارہ کھولےجاسکتےہیں۔

واضح رہے کہ  قومی احتساب بیورو (نیب) اور براڈ شیٹ میں معاہدہ جون 2000 میں ہوا۔ 20 مئی 2008 میں براڈ شیٹ کے ساتھ سیٹلمنٹ ہوئی تھی اور براڈ شیٹ کو 15 لاکھ ڈالرز کی ادائیگی ہوئی جبکہ جولائی 2019 میں ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی اس کا فیصلہ براڈشیٹ کے حق میں آیا۔وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کے مطابق نیب نے 2003 میں براڈ شیٹ سے معاہدہ منسوخ کیا، شفافیت کے بغیر احتساب کاعمل ممکن نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایون فیلڈ کی مد میں براڈ شیٹ کو 15 لاکھ ڈالرز دیے گئے تھے، ہماری اگست 2018 میں حکومت آئی تھی اور براڈ شیٹ کے معاملے پر ہائی کورٹ میں اپیل 2019 میں کی تھی۔

Advertisement